.

حزب اللہ پر جرمنی میں پابندیوں پر ایران چراغ پا اور لبنان خاموش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی حکومت کی جانب سے ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو بلیک لسٹ کیے جانے کے اعلان پر ایران نے سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے جب کہ اس اعلان کو دو روز گذرنے کے بعد تا حال لبنان کی طرف سے کسی قسم کا رد عمل سامنے نہیں آیا۔ لبنان کی معنی خیز خاموشی سے بہت سے سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برلن حکومت کی طرف سے حزب اللہ کو بلیک لسٹ کرنا اور تنظیم کو دہشت گرد گروہ قرار دے کر اس پر سخت اقتصادی پابندیاں عاید کرنا لبنان کے لیے ایک بڑا واقعہ ہے۔ حزب اللہ اس وقت لبنانی حکومت کا حصہ ہے اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کے قریبی ساتھی اس وقت لبنان کی کابینہ کا حصہ ہیں مگر اس کے باوجود لبنانی وزارت خارجہ کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف آنے والے فیصلے پرکسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

دوسری طرف ایران نے جمعہ کے روز جاری ایک بیان میں حزب اللہ کو بلیک لسٹ کیے جانے کی شدید مذمت کی اور جرمنی کو خبردار کیا کہ اسے اس اقدام کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ ایران کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کوبلیک لسٹ کیا جانا امریکی ۔ صہیونی پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کے روز جرمن وزارت داخلہ نے حزب اللہ کو بلیک لسٹ کرنے اور تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد ملک بھر میں موجود حزب اللہ کے مراکز اور اس کے زیرانتظام چلنے والی مساجد کو سیل کر دیا تھا۔ جرمن پولیس نے ملک کے مختلف شہروں میں حزب اللہ سے وابستہ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارے ہیں۔

یاد رہے کہ حزب اللہ کا قیام سنہ 1982ء میں اس وقت ایران کے تعاون سےعمل میں لایا گیا تھا جب اسرائیل نے لبنان پر یلغار کر دی تھی۔ خطے کے دوسرے ممالک اور امریکا بھی حزب اللہ کو پہلے ہی دہشت گرد تںظیم قرار دے چکے ہیں۔ گذشتہ روز سعودی عرب اوریمن نے حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے کے جرمن فیصلے کی حمایت کی ہے۔