.

’’کرپشن کے پوسٹر بوائے‘‘ رامی مخلوف اسد رجیم کے خلاف بول پڑے!

ہر کمائے گئے لیرے کے ساتھ ایک لیرا حکومت کو دے رہا ہوں: سوریا ٹیل کے مالک کی فیس بُک پر ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کے فرسٹ کزن اور ملک کی طاقتور کاروباری شخصیت رامی مخلوف رجیم کی چیرہ دستیوں پر بول پڑے ہیں۔انھوں نے اپنے تحفظات کا اظہار ایک ویڈیو میں کیا ہے اور اس کو فیس بُک پربراہ راست نشر کیا ہے۔

رامی مخلوف شام کی ٹیلی مواصلات کی سرکاری کمپنی سیریا ٹیل (سوریا ٹیل) کے چیئرمین ہیں۔ انھوں نے اس ویڈیو میں اپنے اثاثے ضبط کرنے کے لیے حکومت کے حالیہ اقدامات کی مخالفت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سیریا ٹیل نے 2019ء میں ٹیکس کی مد میں دو کروڑ 34 لاکھ ڈالر اور کل منافع کا 50 فی صد حکومت کو ادا کیا تھا۔’’ہم جو بھی ایک لیرا کماتے ہیں تو اس کے ساتھ ایک لیرا ریاست بھی حاصل کرتی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کے باوجود اب حکومت کے آڈیٹروں نے انھیں ’’مزید 24 کروڑ 43 لاکھ ڈالر اور 25 کروڑ 40 لاکھ ڈالر قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔یہ پہلے سے اداشدہ رقم کے 20 فی صد سے بھی زیادہ ہے۔میں اپنے ملازمین پر ایک کروڑ لیرا کی رقم خرچ کرتا ہوں، وہ مجھے کہتے ہیں کہ اس رقم میں نصف کٹوتی کی جائے اور اس کو 50 لاکھ لیرا تک لایا جائے لیکن یہ تو حقیقی اخراجات ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ شام کے مالی ذرائع اور اخراجات سے متعلق فیصلے اسد خاندان،ان کے قریبی رشتے داروں اور دوستوں پر مشتمل مٹھی بھرٹولہ کرتا ہے۔وہی ملک کے سیاہ وسفید کے ملک بنے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان گاہے گاہے اختلافات کی خبریں مںظرعام پر آتی رہتی ہیں لیکن رجیم کی سرکردہ شخصیات کم ہی خود کھل کر اس طرح بیان جاری کرتی ہیں۔

صحافی سام دقر کہتے ہیں:'' اس طرح کھل کر ویڈیو نشر کرنا شام کے معاملے میں نایاب اور ناقابل یقین ہی ہے۔''سام ''اسد یا ہم ملک جلادیں گے'' نامی کتاب کے مصنف ہیں۔

رامی مخلوف بشارالاسد کے ماموں زاد ہوتے ہیں اور وہ شام کے امیر ترین شخص ہیں۔جب 2011ء کے اوائل میں شام کے شہر درعا میں بشارالاسد کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے تو رامی مخلوف کے خلاف بھی نعرے بازی کی جاتی رہی تھی اور انھیں’’ چور‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔امریکا کی خفیہ سفارتی مراسلت میں انھیں ''کرپشن کا پوسٹر بوائے'' قرار دیا گیا تھا۔

سام دقربتاتے ہیں کہ '' وہ اسد رجیم کو پابندیوں سے بچانے میں اہم مددگار رہے ہیں۔سیریا ٹیل اسدوں اور مخلوفوں کے لیے کماؤ پوت رہی ہے۔''

لیکن رامی مخلوف نے 15 منٹ کی اس ویڈیو میں خود کو''غیر منصفانہ'' کریک ڈاؤن کا متاثرہ شکار قراردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ تو ملک کے بے لوث خیر خواہ ہیں۔انھوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا:’’لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ میرے ذمے رقم واجب الادا ہے اور انھوں نے میرے خیراتی کام کو بھی نظرانداز کردیا ہے۔ہم کوئی کھیل نہیں کھیل رہے ہیں۔آپ ہمارے لوگ ہیں،ہمارا خاندان ہیں۔کیا کوئی شخص اپنے ہی لوگوں کو نقب لگا سکتا ہے۔یہ کاروبار آپ لوگوں کی خدمت کے لیے ہیں، میرے لیے نہیں۔میرا تو اس میں بہت تھوڑا حصہ ہے۔‘‘

شام کی ارب پتی شخصیت نے اپنے خیراتی اداروں کے ذریعے انسانی امداد کا بھی ذکر کیا ہے۔وہ کہتے ہیں: ’’2011ء میں جنگ کے آغاز کے وقت جب میں نے خود کو آپ کے احسانات کے بوجھ تلے دبا پایا تو میں نے کاروبار سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور خود کو انسانی امداد کے لیے وقف کردیا تھا۔‘‘

جمعیت البوستان کے نام سے ان کا ایک خیراتی ادارہ اسد نوازعلوی ملیشیا کو رقوم مہیا کرتا رہا ہے اور باغی گروپوں کے خلاف جنگ میں کام آنے والے اس ملیشا کے جنگجوؤں کے خاندانوں کی کفالت کرتا رہا ہے۔

سابق سفارت کار اور لکھاری بسام برابندی ان کے الفاظ کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ ’’اس ویڈیو کے ذریعے دراصل انھوں نے بشارالاسد کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اگر انھوں نے انھیں (رامی مخلوف کو) کھو دیا تو وہ پھر شام کی علوی کمیونٹی کی حمایت سے بھی محروم ہوجائیں گے۔‘‘

یادرہے کہ بشارالاسد نے گذشتہ سال رامی مخلوف اور دوسری کاروباری شخصیات کو شام کے مرکزی بنک میں کروڑوں ڈالر جمع کرانے کا حکم دیا تھا تاکہ پابندیوں کا شکار تباہ حال شامی معیشت کو سنبھالا دیا جاسکے۔گذشتہ ہفتے اسد حکومت نے مخلوف کی ایک کمپنی عبر پیٹرولیم سروس (سال) کے اثاثے ضبط کر لیے تھے۔

رامی مخلوف نے ویڈیو میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ نئے ٹیکسوں سے ان کی کمپنی بکھر کر رہ جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم رقوم کو کہیں ٹائلوں کے نیچے تو نہیں چھپاتے ہیں۔‘‘

انھوں نے پوری رقم ادا کرنے سے اتفاق کیا ہے لیکن اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ’’صدر بشارالاسد خود اس رقم کی ملک کے غرباء میں تقسیم کی نگرانی کریں اور ان کے اعتماد سے ہی یہ رقم تقسیم کی جانی چاہیے کیونکہ وہ کسی اور عہدے دار پراعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔‘‘

برابندی کے مطابق رامی مخلوف ماضی میں صدر بشارالاسد سے مصالحت کے لیے ان کی والدہ اوراپنی پھوپھی جان انیسہ کو بیچ میں لے آتے تھے لیکن اب ان کی وفات کے بعد یہ آپشن تو ختم ہوچکا۔اب رامی اپنے کزن سے رابطے کے تمام ذرائع بروئے کارلا چکے ہیں مگر بشارالاسد نے ان کے فون تک کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

روس کا کردار

گذشتہ سال یہ رپورٹ منظرعام پر آئی تھی کہ روس اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد اور ان کے خاندان کو امریکا اور یورپ کی پابندیوں سے بچانے کے لیے بھرپور کردار ادا کررہا ہے اور ان کی ہر طریقے سے مدد کررہا ہے۔اس کے بدلے میں اسد خاندان اپنے سرمائے کو ماسکو میں منتقل کررہا ہے اور شامی صدر کے کزن مخلوف خاندان نے روسی دارالحکومت میں چار کروڑ ڈالر مالیت کے اپارٹمنٹ خرید کر لیے ہیں۔

مخلوف شام کا امیر ترین خاندان ہے۔دنیا میں امیرکبیر افراد اور خاندانوں کی دولت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے واچ ڈاگ ’گلوبل وٹنس‘کی رپورٹ کے مطابق مخلوف خاندان کا شام میں 2011ء میں خانہ جنگی چھڑنے سے قبل ملک کی 60 فی صد معیشت پر کنٹرول تھا۔

لیکن امریکا نے جب اس خاندان کے افراد کے شام میں پُرامن مظاہرین کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں میں کردار پر اثاثے ضبط کر لیے،سوئس بنکوں میں بھی ان کے اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے اور یورپی ممالک نے ان کے ویزے منسوخ کردیے تو انھوں نے روس کا رُخ کر لیا اور اپنی دولت کو برقرار رکھنے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کر لیے۔

گلوبل وٹنس کی رپورٹ کے مطابق مخلوف خاندان نے ماسکو کے مشہور’’دارالحکومتوں کے شہر‘‘ کمپلیکس میں 19 بلند وبالا اپارٹمنٹس خرید کیے ہیں۔اس جائیداد کے منظرعام پر آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اس الزام کو تقویت ملی تھی کہ مخلوف برادران امریکا اور یورپی یونین کی پابندیوں سے محفوظ رہ کر اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شام کے سابق سفارت کار بسام برابندی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ روس مخلوف خاندان کو اپنے ہاں سرمایہ کاری لانے کی شرط پر منی لانڈرنگ میں مدد دے رہا ہے۔ان کے بہ قول ’’ روس ایک بڑی مارکیٹ ہے اور اس کو مخلوف خاندان ایسے گروپ ہی چلا رہے ہیں۔اس لیے وہاں روسی حکومت کے زیر سایہ شراکت داروں کی تلاش کوئی مشکل کام نہیں ہے۔‘‘

ماسکو میں سب سے زیادہ اپارٹمنٹ بشارالاسد کے فرسٹ کزن حافظ مخلوف کے ملکیتی ہیں۔انھوں نے شامی انٹیلی جنس کے اعلیٰ افسر کی حیثیت سے پُرامن مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور اسی بنا پر یورپی یونین نے ان کے خلاف پابندیاں عاید کردی تھیں۔

حافظ مخلوف اب روس میں متعدد پراپرٹی کمپنیوں کے مالک ہیں۔انھوں نے لبنان کی ایک آف شور کمپنی نیلام سال سے قرضہ حاصل کیا تھا۔یہ کمپنی ان کے ایک اور کزن محمد عباس کی ملکیتی ہے۔مخلوف نے 2018ء میں روسی کمپنیوں میں اپنے حصص ایک لبنانی کمپنی بریانا سال آف شور کو فروخت کردیے تھے۔انھوں نے مبیّنہ طور پر یہ سمجھوتا اپنی رقم کو شام سے روس منتقل کرنے کے لیے کیا تھا۔

حافظ مخلوف کے بڑے بھائی اور شام کی امیرترین شخصیت رامی مخلوف بھی اپنے کالے دھن کو سفید کرنے میں کسی سے پیھے نہیں رہے۔رامی اور ان کی بیوی نے ماسکو میں ’’دارالحکومتوں کے شہر‘‘ میں متعدد اپارٹمنٹ خرید کیے ہیں۔وہ شام کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی سیریا ٹیل کے علاوہ متعدد ہولڈنگ کمپنیوں کے بڑے حصص دارہیں۔انھوں نے تیل ، گیس اور شہری ہوابازی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے 2011ء میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پاداش میں شامی صدر بشار الاسد ، ان کی حکومت کے نو عہدے داروں، تین اداروں اور مخلوف برادران پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔حافظ مخلوف پر اس سے پہلے 2007ء میں بھی امریکا نے لبنان کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے اور وہاں جمہوری عمل کی راہ میں روڑے اٹکانے کے الزام میں پابندیاں عاید کی تھیں۔

بسام برابندی کے بہ قول روسی دارالحکومت میں مخلوف خاندان کے ملکیتی اپارٹمنٹس تو سامنے کی بات ہے لیکن اس کے علاوہ بھی ان کے کاروبار، فرمیں اور فیکٹریاں ہیں جو ہرکسی کو کم ہی نظر آتی ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ قریباً نو سال سے خانہ جنگ جاری ہے۔ شام میں 2011ء کے اوائل میں صدر بشارالاسد کے مطلق العنان اقتدار کے خلاف پُرامن احتجاجی مظاہروں سے تحریک شروع ہوئی تھی۔ بشار الاسد نے اپنے بھائی بندوں کی مدد سے اس کو ریاستی تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی تھی۔ان کی فوج کی جبروتشدد کی کارروائیوں کے خلاف شامی نوجوانوں نے ہتھیاراٹھا لیے تھے اور پھر ملک کے بیشتر علاقوں میں خانہ جنگی چھڑ گئی تھی۔اس میں اب تک تین لاکھ اسی ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔