.

سعودی عرب 'اعلان بالفور' سے فلسطینی قوم کے ساتھ کھڑا ہے: فلسطینی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں فلسطینی مملکت کے سفیر نے فلسطینی قوم کے لیے سعودی عرب کی طرف سے تازہ امداد کے اعلان پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے مظلوم فلسطینی قوم کی پہلی مرتبہ مدد نہیں کی گئی بلکہ سعودیہ 'اعلان بالفور'سے فلسطینی قوم کےساتھ کھڑا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے فلسطینی سفیر باسم الآغا نے کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے فلسطینیوں کی امداد کا سلسلہ عشروں سے جاری ہے۔ فلسطینی قوم سعودی عرب کی طرف سے مادی اور معنوی امداد کے ساتھ قضیہ فلسطین کے حوالے سے اصولی موقف پر اسے خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں فلسطینی سفیر کا کہنا تھا کہ جب ہم سعودی عرب کی بات کرتے ہیں تو مملکت کی قیادت نے ہمیشہ اور ہرحال میں فلسطینی قوم کا ساتھ دیا۔ فلسطینی قوم کی بہتری چاہی۔ شاہ سلمان کا نہ صرف فلسطینیوں بلکہ عرب اقوام اور پوری انسانیت کے لیے موقف قابل تحسین ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے فلسطینیوں کی کرونا سےلڑنے کے لیے ایک کروڑ ریال کی امداد پر ہم ریاض کے شکر گذار ہیں۔

باسم الآغا کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان فلسطینی قوم کے لیے قطب شمالی کی طرح ہیں۔ انہیں فلسطینی قوم کی ہر اچھی بری بات کی خبر ہے اور وہ جانتے ہیں کہ فلسطینی کون ہیں۔ فلسطینی قوم اور قیادت کے دل میں سعودی عرب کی قیادت کے لیے تحسین اور تعریف کےسوا کچھ نہیں۔ شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ہرموقعے پر فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ قضیہ فلسطین کے حوالے سے خادم الحرمین اور ولی عہد شہزادہ محمد نے ہمیشہ اصولی اور جرات مندانہ کردار ادا کیا ہے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں فلسطینی سفیر نے کہا کہ سعودی عرب نے تقسیم فلسطین کے تاریخی معاہدے' اعلان بالفور' کو مسترد کردیا تھا۔ اس کے بعد سے فلسطینی قوم نے سعودی مملکت ، قوم اور قیادت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ سعودی عرب اعلان بالفور سے فلسطینی قوم کی پشت پر کھڑا ہے۔ شاہ سلمان نہ صرف فلسطینیوں بلکہ پوری دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے کام کررہے ہیں۔