.

کرونا کی وجہ سے سعودی عرب کا 'سمبوسہ' بازار 15 سال میں پہلی بار ویران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے عسیر میں قائم مشہور'سمبوسہ' بازار کو ماہ صیام کے حوالے سےخاص نسبت ہے مگر اس بار کرونا کی وبا کی وجہ سے یہ بازار بھی ویران ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'سمبوسہ' بازارشہر کی شمالی کالونی مشہد میں قائم کیا گیا تھا۔ ماہ صیام آتے ہی اس میں خریداروں کا رش لگ جاتا۔ مگر اس بار 10 ہزار مربع میٹر پرپھیلا یہ بازار ویران اور سنسان ہے۔

عسیر کا مشہور سمبوسہ بازار رمضان المبارک کے دوران گاہکوں کی خاص توجہ کا اس لیے مرکز بن جاتا کہ اس میں افطاری اور سحری کے لیے ہمہ نوع کھابے، ماکولات اور مشروبات تیار کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بازار مقامی لوگوں کے آپس میں میل ملاقات کا بھی اہم ذریعہ تھا مگر اس سال شہری کرونا کی وجہ سے اس بازار کا رخ نہیں کرتے اور دکانداروں نے بھی اپنا کام بند کررکھا ہے۔

عسیر سیکرٹریٹ کی جانب سے سمبوسہ بازار میں 200 رجسٹرڈ دکانیں ہیں۔ اس بازار میں ماضی میں ہر سال روزانہ اوسطا پانچ ہزار افراد افطاری اور سحری کی ضروریات کے ساتھ دیگر گھریلوں سامنا کی خریداری کے لیے آتے تھے۔ اس بار کرونا کی وجہ سے اس بازار کو صرف تین گھنٹے کھولنے کی اجازت دی گئی ہے مگر بازار میں وہ پہلے جیسا رمضان ماحول اور فضا نہیں۔ اس سال سمبوسہ بازار میں دیگر کھابوں کی دکانیں بند ہیں اور صرف سبزیوں اور پھلوں کی خریدوفروخت کی اجازت دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سےبات کرتے ہوئے بازار کی انتظامیہ کے عہدیدار محمد العاوی نے کہا کہ سمبوسہ بازار کی بندش عارضی ہے۔ ہم نے بازار میں گاہکوں کی سماجی دوری کا بھی اہتمام کیا ہے تاکہ کرونا کی وبا نہ پھیل سکے۔

ایک سوال کے جواب میں العاوی کا کہنا تھا کہ سمبوسہ بازار میں فی الحال سبزی اور فروخٹ کی 20 دکانوں کو کام کی اجازت دی گئی ہے جن میں روزانہ 20 ٹن سامان فروخت کیاجاتا ہے۔