.

انقرہ حکومت لیبیا میں تنازع بھڑکانے میں مصروف ، جدید اسلحہ وفاق کی فورسز کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے لیبیا میں وفاق حکومت کی فورسز کے لیے جدید اسلحہ اور نئی عسکری ٹکنالوجی بھیجی ہے۔ اس اقدام کا مقصد معرکہ آرائی میں برتری کو جنم دینے اور طاقت کا توازن وفاق کی فورسز کے حق میں کرنے کی کوشش کے علاوہ لیبیا کی فوج کی دارالحکومت طرابلس کے وسطی علاقے کی سمت پیش قدمی کو روکنا ہے۔

لیبیا کی فوج کی جنرل کمان کے ایک ذمے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ انقرہ نے حالیہ عرصے میں وفاق حکومت کی فورسز کو اعلی ٹکنالوجی کا حامل جدید اسلحہ فراہم کیا ہے۔ یہ اسلحہ ترکی سے آنے والے کارگو بحری جہازوں کے ذریعے مصراتہ اور طرابلس کی بندرگاہوں تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اسلحہ طرابلس میں لڑائی کے محاذوں کے علاوہ رہائشی اور دیگر اہم علاقوں سے بھی درآمد ہوا۔

یہاں ترکی کے تیار کردہ جدید ترین فضائی دفاعی سسٹم ، زمین سے مار کرنے والے جدید میزائل، کارروائی میں تعطل ڈالنے والی مشینیں اور بڑی نالی والے مارٹر گولوں کی تنصیب عمل میں آئی۔ ان کے علاوہ "العنقاء" ماڈل کے ڈرون طیارے بھی شامل ہیں۔ لیبیائی ذمے دار نے باور کرایا کہ ترکی تمام تر مادی ، سیاسی اور عسکری وسائل اور غیر ملکی جنگجوؤں کے ذریعے وفاق کی مسلح ملیشیاؤں کو مسلسل سپورٹ کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت عالمی برادری کی جانب سے رمضان کے دوران انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور لڑائی روکنے کے مطالبات کے باوجود سامنے آ رہی ہے۔ لیبیا کی فوج مذکورہ فائر بندی پر آمادہ ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے مشن نے 24 اپریل کو اس امر پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا کہ لیبیا میں جدید اسلحہ داخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے ،،، یہ ملک پر عائد پابندی کی خلاف ورزی ہے۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی ناظم امور اسٹیفنی ولیمز نے انٹرنیٹ کے ذریعے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ لیبیا "ہر طرح کے جدید ہتھیاروں کے تجربات کا میدان بنتا جا رہا ہے"۔ یہ اس ملک پر عائد پابندی کی خلاف ورزی ہے۔ طرابلس میں لڑائی کے محاذوں پر حرارتی ہتھیاروں ، راکٹ گرینیڈز اور جدید ڈرون طیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے"۔

انقرہ حکومت اعلانیہ طور پر لیبیا میں وفاق حکومت کو عسکری سپورٹ فراہم کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ترکی ساز و سامان کے علاوہ شامی مسلح جنگجو اور ترکی مشیران بھی لیبیا بھیج رہا ہے۔ یہ سب کچھ گذشتہ برس دسمبر میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پائے جانے والے ایک معاہدے کے تحت عمل میں آ رہا ہے۔ اس متنازع سمجھوتے کے نتیجے میں وفاق حکومت کی فورسز لیبیا کی فوج کی جانب سے طرابلس کو آزاد کرانے کے لیے جاری فوجی آپریشن کی مزاحمت میں کامیاب رہی ہیں۔ یہ آپریشن گذشتہ برس اپریل میں شروع کیا گیا تھا۔