.

حسن نصراللہ نے جرمنی کی امریکا کے دباؤ پر حزب اللہ پر عاید کردہ پابندی کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنی تنظیم پر جرمنی کے پابندی کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس کو امریکا کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تنظیم جرمنی میں فعال نہیں ہے۔

جرمنی نے گذشتہ جمعرات کو حزب اللہ کو ’’ شیعہ دہشت گرد تنظیم ‘‘ قراردے دیا تھا۔اس فیصلے کے بعد جرمن سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں اس گروپ سے وابستہ مساجد اور تنظیموں کے دفاتر پر چھاپا مار کارروائیاں کی تھیں۔

حزب اللہ کے سربراہ نے سوموار کو ایک نشری تقریر میں جرمنی کے فیصلے کو سیاسی قراردیا ہے اور کہا ہے کہ جرمنی امریکا کے دباؤ کے آگے جھک گیا ہے اور اس نے اسرائیل کو ممنون کرنے کے لیے یہ اقدام کیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم جرمنی میں فعال نہیں ہیں تو ہم 100 فی صد راست باز ہوتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل بہت پہلے حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔وہ اپنے اتحادیوں پر بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کی آلہ کار تنظیم کو دہشت گرد قرار دیں۔

مگر یورپی یونین کی طرح جرمنی نے اب تک حزب اللہ کے عسکری ونگ ہی کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور اس کے سیاسی بازو کو دہشت گرد قرار نہیں دیا تھا۔حزب اللہ کے سیاسی شعبہ کی لبنان کی پارلیمان میں بھی نمایندگی ہے۔

حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ مزید یورپی ممالک بھی جرمنی کی پیروی کرتے ہوئے ان کی ملیشیا کو دہشت گرد قرار دے سکتے ہیں حالانکہ ان کہ تنظیم کئی سال پہلے دنیا بھر اور بالخصوص یورپ میں اپنی سرگرمیاں منجمد کرچکی ہے۔

انھوں نے جرمن حکام کی مساجد اور گروپ سے وابستہ تنظیموں پر چھاپا مار کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی سفاکانہ کارروائیوں کی ضرورت نہیں تھی۔انھوں نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جرمنی میں اپنے شہریوں کا تحفظ کرے۔

آئی ایم ایف کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں

حزب اللہ کے سربراہ نے لبنانی حکومت کے ملک کو درپیش معاشی بحران سے نمٹنے کے منصوبے کو ایک اہم قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کو آنکھیں بند کرکے تسلیم نہ کیا جائے اور ایسی شرائط ہرگز نہ مانی جائیں جن کا بوجھ ملک برداشت کرنے کی سکت ہی نہ رکھتا ہو۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کو مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک موقع ملنا چاہیے۔

حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ لبنان کے مقامی بنکوں نے گذشتہ برسوں کے دوران میں بہت منافع کمایا ہے،اس لیے انھیں اب مدد کو آگے آنا چاہیے۔انھوں نے حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ کم زور ہوتی مقامی معیشت کو سنبھالا دینے اور آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کا کوئی حل نکالیں۔