.

مصر: کرونا کے سبب ہوٹلوں میں قیام کے حوالے سے نئے قواعد و ضوابط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے وزیراعظم مصطفی مدبولی نے ملک میں ہوٹلوں میں قیام کے حوالے سے متعدد قواعد و ضوابط کی منظوری دی ہے۔ یہ اقدام کرونا وائرس سے نمٹنے کےلیے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کی روشنی میں سامنے آیا ہے۔

اس سلسلے میں اتوار کے روز ہونے والے اجلاس کی صدارت وزیراعظم مدبولی نے کی۔ ان کےعلاوہ اجلاس میں متعدد وزراء نے بھی شرکت کی۔ اس دوران داخلی سیاحت کے حوالے سے ہوٹلوں میں قیام سے متعلق متعدد قواعد و ضوابط کی منظوری دی گئی۔

مصر کے وزیر سیاحت ڈاکٹر خالد العنانی کے مطابق ہوٹلوں کو ہیلتھ فٹنس سرٹفکیٹ دینے کے لیے بنیادی شرائط کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں ہر ہوٹل کی جانب سے کلینک اور ڈاکٹر کی فراہمی، ہوٹل میں شخصی تحفظ کے لوازمات اور استعمال کیے جانے والے جراثیم کش مواد کے معیار کی تصدیق اور صرف وزارت صحت کی جانب سے منظور شدہ کمپنیوں کے ساتھ معاملات انجام دینا شامل ہے۔ ان تمام امور میں وزارت داخلہ کے ساتھ رابطہ کاری لازم ہو گی۔

مصری وزیر نے بتایا کہ نئی شرائط میں مشترکہ ورکنگ ٹیموں کی تشکیل شامل ہے۔ یہ ٹیمیں ہوٹلوں میں آمد و رفت کے ذریعے مقررہ شرائط پر عمل درامد کی تصدیق کریں گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شرائط کے مطابق ہوٹلوں میں کسی بھی قسم کی تقریب کے انعقاد کی اجازت نہیں ہو گی۔ ہوٹل میں رات کی تمام سرگرمیوں پر پابندی ہو گی۔ ہر ہوٹل میں کسی ایک منزل پر قرنطینہ کی جگہ ہو گی جہاں کرونا کے تصدیق شدہ یا مشتبہ متاثرین کو رکھا جا سکے۔ سیاحتی شہروں کے داخلی راستوں پر کام کرنے والے کارکنان کے فوری ٹیسٹ کے انتظامات کو یقینی بنانا ہو گا۔

مصری وزیر سیاحت کے مطابق ہر ہوٹل کے داخلی راستے پر جراثیم کش صفائی کی مشین نصب کی جائے گی۔ قیام کے لیے آنے والوں کے داخلے کے اندراج کے سلسلے میں اقدامات کو الکٹرونک طریقے سے پورا کیا جائے گا۔ مہمانوں ہوٹل پہنچنے اور وہاں سے روانگی سے قبل ان کے سامان کو جراثیم سے پاک کیا جائے گا۔ مہمانوں کے ہر بار ہوٹل میں داخلے کے وقت ان کے جسم کا درجہ حرارت جانچا جائے گا۔

ہوٹل کے استقبالیے کی جگہ چوبیس گھنٹے سینی ٹائزر کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ باقاعدگی کے ساتھ ہوٹل کی تمام جگہاؤں اور وہاں کام کرنے والوں کے سکونت کے مقامات کو جراثیم کش مواد کے ذریعے پاک کیا جائے گا۔

اجلاس میں ہوٹلوں کے کام کرنے سے متعلق ضوابط کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں بوفے سروس پر مکمل پابندی، سابقہ طے شہد فہرستوں پر انحصار، شیشہ یعنی حقے کے پیش کیے جانے پر پابندی، ریستوران میں آنے والوں کے جسمانی درجہ حرارت کی جانچ، کھانے کی میزوں کے درمیان کم از کم دو میٹر اور افراد کے درمیان کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ، بڑی میز پر ایک گھرانے کے لیے زیادہ سے زیادہ 6 کرسیوں کی حد، کھانے کی ہر میز پر سینی ٹائزر ٹشوز کی فراہمی اور ریستوران کے مختلف حصوں میں آگاہی سے متعلق ہدایات وضع کرنا شامل ہے۔

مزید برآں ہوٹلوں کے اندر داخلی نگرانی اور لانڈری کی خدمات کے لیے شرائط کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وزارت صحت کی ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے کمروں کو روزانہ جراثیم کش مواد کے ذریعے صاف کیا جائے گا۔ مقامات عامہ میں چُھوئے جانے والے نقاط اور عوامی سطح پر استعمال والے بیت الخلاؤں کو مقررہ تطہیری مواد کے ذریعے ہر گھنٹے صاف کیا جائے گا۔