.

کرپٹ وزراء کی بریت کے لیے عراقی عدلیہ کو دباو کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی عدلیہ نے اعتراف کیا ہے عدالتوں کو کرپٹ وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر سینیر لیڈروں کی بریت کے لیے سیاسی جماعتوں کی طرف سےدبائو کا سامان ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل کے ترجمان جسٹس عبدالستار بیرقدار نے اتوار کے روزایک بیان میں انکشاف کیا کہ ججوں پر کرپٹ سیاست دانوں کی بریت کے لیے سخت دبائو ہے۔

عراق کے جوڈیشل میڈیا سینٹر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس وقت عدلیہ قومی خزانے کی لوٹ مار کرنے والوں کا محاسبہ کرنے کے ساتھ ساتھ کرپشن کی بیخ کنی کے لیے ٹھوس اقدامات کررہی ہے مگر عدلیہ کو سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے سابق کرپٹ وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے کیسز میں دبائو کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی لیڈر عدلیہ پر سابق وزراء کو بری کرنے کے لیے دبائو ڈال رہےہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پربھی ججوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض کرپٹ عناصر اور ان کے حامی صحافی بیرون ملک بیٹھ کر عراقی عدلیہ پراثرانداز ہونے کی کوشش کررہےہیں مگر عدلیہ اپنا کام جاری رکھے گی۔

عبدالستار بیرقدار کا کہنا تھا کہ عراقی عدالتیں اور جج جھوٹ کی سیاست کرنے والوں اور کرپٹ مافیا کے معاملے میں کسی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوگی۔ یہ ان کی غلط فہمی ہے کہ عدالتیں دبائو میں آ کر کرپشن کیسز خار کردیں گی اور قومی خزانے کی لوٹ مار میں ملوث عناصر کو معاف کردیں گے۔