.

حزب اللہ کودہشت گرد تنظیم قرار دینے پر جرمن سفیر کی لبنان کی وزارت خارجہ میں طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی وزارت خارجہ نے بیروت میں متعیّن جرمن سفیر کو طلب کیا ہے اور ان سے برلن حکومت کے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کی وضاحت طلب کی ہے۔

جرمن سفیر نے لبنانی وزیرخارجہ نصیف حتی سے ملاقات کی ہے۔اس کے بعد نصیف حتی کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ حزب اللہ لبنان میں ایک مرکزی سیاسی گروپ ہے،یہ عوام کے ایک بڑے طبقے کی نمایندہ ہے اور پارلیمان کا حصہ ہے۔‘‘

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے سوموار کو ایک نشری تقریر میں کہا تھا کہ جرمنی نے امریکا کے دباؤ پر ان کی تحریک کو گذشتہ جمعرات کو’’شیعہ دہشت گرد تنظیم‘‘ قراردیا ہے۔

انھوں نے لبنانی حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ جرمن سفیر کو طلب کرکے ان سے اس فیصلے کی وضاحت طلب کرے۔ حسن نصراللہ نے لبنانی حکومت سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ جرمنی میں مقیم اپنے شہریوں کے تحفظ کی ذمے دار ہے۔

انھوں نے جرمنی میں حزب اللہ سے وابستہ مساجد اور تنظیموں کے دفاتر پر پولیس کی چھاپا مار کارروائیوں کی بھی مذمت کی تھی اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی تنظیم کا یورپ میں تو اب سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے بھی جرمنی کے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کی مذمت کی تھی جبکہ امریکا اور اسرائیل نے دوسرے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھی جرمنی کی پیروی کرتے ہوئے لبنانی ملیشیا کو دہشت گرد قرار دے دیں۔

واضح رہے کہ یورپی یونین نے حزب اللہ کے عسکری ونگ کو پہلے ہی دہشت گرد قراردے رکھا ہے لیکن اس کے سیاسی ونگ کو نہیں۔برطانیہ نے گذشتہ سال فروری میں یورپی یونین سے علاحدگی سے قبل ایک قانون متعارف کرایا تھا،اس کے تحت حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔