ترکی ، لیبیا تیونس اور الجزائر کا خیرخواہ نہیں: تیونسی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کے سابق وزیر اور پارلیمنٹ کے رکن مبروک کورشید نے ترکی پر لیبیا میں دہشت گرد بھیجنے کا الزام عاید کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انقرہ کی حکومت ان کے ملک سمیت کسی دوسرے ملک کی خیر خواہ نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ 'فیس بک' پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں تیونسی رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن تیونس، لیبیا اور الجزائر کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ انہوں نے لیبیا کو ہزاروں دہشت گردوں کے حوالے کردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران ترکی نے 6 ہزار جنگجو لیبیا بھیجے۔ یہ دہشت گرد لیبیا، تیونس اور دوسرے پڑوسے ملکوں کے لیے بہت بڑی مصیبت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیونس کی سرحد کے قریب لیبیا میں ترک نواز دہشت گردوں کی موجودگی تیونس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ تیونس کو اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ترک نواز دہشت گردوں کی وجہ سے بہت زیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ اس وقت تیونس کے بجٹ کا 15 فی صد سیکیورٹی اور اسلحہ پر صرف کیا جا رہا ہے جب کہ 2010ء میں یہ شرح صرف تین فی صد تھی۔

'تحیا تیونس' کے رکن پارلیمان کورشید نے مزید کہا کہ لیبیا میں چھ ہزار دہشت گردوں کو بھیجنا تیونس پرحملہ کرنے کے مترادف ہے۔ تیونس کو اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر لیبیا میں مزید دہشت گردوں کی آمد رکوانا ہوگی۔

مبروک کورشید کا کہنا تھا کہ لیبیا میں لڑائی میں شدت تیونس کی معیشت پربھی تباہ کن اثرات مرتب کررہی ہے۔ تیونس کی مصنوعات اور لیبر کی لیبیا آمد ورفت معطل ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں تیونسی معیشت کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں