.

الوطیہ کے اڈے پر حملے کی کوشش کرنے والے تُرک ڈرون طیارے مار گرائے: لیبیائی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں فیلڈ مارشل جنرل خلیفہ حفتر کی قومی فوج نے دو گھنٹوں کے اندر ترکی کے دو ڈرون طیاروں کو فضا میں تباہ کر دیا۔ ان ڈرون طیاروں نے الوطیہ کے فوجی اڈے پر فضائی حملے کی کوشش کی تھی۔

لیبیا کی فوج نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے مصراتہ شہر کے مشرق میں واقع متعدد ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ حملوں میں ترکی کے ہمنوا مسلح گروپوں کے مراکز اور اسلحہ خانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

فوج کی جانب سے جمعرات کی شب جاری بیان میں بتایا گیا کہ ترکی کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے مراکز اور گولہ بارود اور ہتھیاروں کے گوداموں کے علاوہ بوقرین کے جنوب میں القداحیہ کے علاقے میں بعض کھیتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کھیتوں میں مذکورہ ملیشیاؤں کے ٹھکانے قائم ہیں۔

یہ پیش رفت مصراتہ شہر میں ملٹری کالج پر 10 سے زیادہ فضائی حملوں کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ مصراتہ شہر شامی اجرتی جنگجوؤں کا گڑھ اور ترکی کی کارروائیوں کا مرکزی آپریشن روم شمار کیا جاتا ہے۔

لیبیا میں متحارب فریقین نے ایک عسکری معرکے کے واسطے اپنی فورسز کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ دارالحکومت طرابلس میں لڑائی چھڑ جانے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا معرکہ ہو سکتا ہے۔ دارالحکومت کے بیرونی کناروں پر کھڑی لیبیا کی فوج نے اضافی کمک طلب کر لی ہے۔ ادھر وفاق حکومت کی فورسز نے اپنے جنگجوؤں کو اکٹھا کرنے اور انہیں ہتھیاروں اور شامی جنگجوؤں کے ذریعے سپورٹ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کا مقصد لیبیا کی فوج کے ٹھکانوں کے خلاف نئے عسکری اقدامات پر عمل درامد کرنا ہے۔