.

ایرانی بارڈر فورس کے ہاتھوں دریا میں غرق کیے 17 افغانیوں کی لاشیں برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان حکام نے کل جمعرات کو بتایا ہے کہ رواں ماہ ایرانی بارڈر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے درجنوں افغان شہریوں کو زندہ ایک دریا میں ڈبو دیا تھا۔ دریا میں ڈوبنے والے 17 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔

تاہم دوسری طرف ایران نے افغان شہریوں کو زندہ دریا برد کرنے کا الزام مسترد کردیا ہے۔ اس واقعے نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک نیا سفارتی تنازع بھی پیدا کیا ہے۔

افغان حکام اور واقعے میں زندہ بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صوبہ ھرات سے تعلق رکھنے 50 افراد کو ایرانی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایران داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ اس کے بعد ان سب کو زندہ دریائے 'ھریرود' میں ڈال دیا۔ یہ دریا ایران، افغانستان اور ترکمانستان سے گذرتا ہے۔

ھرات کے علاقے جولران کے گورنر عبدالغنی نوری نے بتایا کہ افغان شہریوں کو دریا برد کرنے کا واقعہ گذشتہ دنوں پیش آیا تھا۔ ہلاک ہونے والے 50 افراد میں سے 17 کی لاشیں نکالی لی گئی ہیں۔ قبل ازیں اتوار کو ھریرود دریا سے پانچ افراد کی لاشیں نکالی گئی تھیں۔