جامعہ الازھر نے اخوانی پروفیسر کی علما اکیڈمی کی سربراہی کالعدم قرار دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھر نے کالعدم مذہبی جماعت اخوان المسلمون سے منسلک ایک پروفیسر کو یونیورسٹی کےماتحت دعاۃ اکیڈمی کا سربراہ مقرر کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چند روز قبل یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ڈاکٹر عطا عبدالعاطی محمد محمد السنباطی جو جامعہ الازہر میں اصول فقہ کے پروفیسر ہیں کو علماء اور مبلغین کی تیاری کے لیے قائم کردہ دعاۃ اکیڈمی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا، مگر موصوف کے کالعدم مذہبی جماعت سے تعلق کے ثبوت سامنے آنے کے بعد انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ دعاۃ اور مبلغین اکیڈمی میں اندرون اور بیرون ملک بھیجے جانے والے علماء، محققین،مفتیان اور دیگر مذہبی رہ نمائوں کی تربیت کی جاتی ہے۔ اکیڈمی کی قیادت ایک سال کے لیے جامعہ الازھرکے کسی سینیر پروفیسر کو سونپی جاتی ہے۔ تاہم اس عہدے میں سال کے بعد تجدید کی جا سکتی ہے۔

اعلیٰ تعلیم کالج کے سابق ڈین پروفیسر السنباطی کے دعاۃ اکیڈمی کا سربراہ مقرر کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر رد عمل سامنے آیا۔ صارفین نے ان کی سابقہ ٹویٹس بھی شائع کیں جن میں ان کی طرف سے اخوان المسلمون کی حمایت کی گئی ہے۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے رابعہ العدویہ گرائونڈ میں دھرنا دینے والے اخوانیوں کی حمایت کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اخوان المسلمون کے حامی مظاہرین کے خلاف کریک ڈائون پر صدر عبدالفتاح السیسی اور پولیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پروفیسر السنابطی کے اخوان کے ساتھ رابطوں کے انکشاف کے بعد ان کی تقرری پر نظر ثانی کی گئی ہے۔ اس سے قبل ان کا نام جامعہ الازھر کی انتظامی کمیٹی کے ارکان میں شمولیت کے لیے بھی لیا جاتا رہا ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی اصلیت سامنے آنے کے بعد انہیں مبلغین اکیڈمی کے سربراہ کے عہدے پر کام سے روک دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی ان کے خلاف مزید کارروائی بھی ارادہ رکھتی ہے۔ جمعرات کے روز ڈاکٹر السنباطی کو ان کےعہدے سے ہٹا کر ڈاکٹر محمد الضوینی کو دعاۃ اکیڈمی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں