.

عالمی ذرائع ابلاغ کی قطر میں غیرملکی لیبر سے نامناسب برتاو کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر میں کام کرنے والے غیرملکی کارکنوں کے ساتھ دوحا کی طرف سے برتے جانے والے سلوک اور نا مناسب حالات میں لیبر کوکام جاری رکھنے پرمجبور کرنے کی پالیسی پرعالمی ذرائع ابلاغ میں کڑی تنقید سامنے آئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک بھارتی ورکر فیروز نے برطانوی اخبار'دی گارڈین' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوحا میں جس کمپنی میں کام کرتے ہیں اس نے دو ماہ قبل انہیں اور ان کے دیگر سیکڑوں ساتھی ملازمین کو کہہ دیا تھا کہ کمپنی اپریل میں انہیں تنخواہ نہیں دے گی تاہم صرف خوراک کی ضرورت پوری کی جائے گی۔ فیروز کا کہنا ہے کہ اپریل کا پورا مہینا گذرگیا۔ تنخواہ سے تو ہمیں پہلے ہی محروم کردیا گیا تھا، ہماری خوراک کے لیے بھی کچھ نہیں دیا گیا۔ چند روز قبل کمپنی کی طرف سے کچھ انڈے اور کوکنگ آئل دیا گیا۔ فیروز کا کہنا ہے کہ ہم دوحا میں ایسے بند ہیں جیسے جیل میں قید ہوں۔

قطر میں غیرملکی کارکنوں کے ساتھ حکومتی برتائو اور مقامی کمپنیوں کی طرف سے نا انصافی عالمی ذرائع ابلاغ نے قطری حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

غیرملکی اخبارات میں چھپنے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ قطر میں کام کرنے والی غیرملکی لیبر کو تنخواہوں سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں خوراک جیسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔ قطری کمپنیاں غیرملکی لیبر کے ساتھ غیرانسانی برتائو کررہی ہیں۔

جریدہ 'دی اکانومیسٹ' کی رپورٹ کے مطابق قطر دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے اور اس کی آبادی بہت کم ہے۔ مگر اس امیر ملک کا عالم یہ ہے کہ اس کی کمپنیاں اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں اور دوحا میں کرونا لاک ڈائون کی وجہ سے پھنسے غیرملکی ورکرز خوراک کے حصول کے لیے ہاتھ پھیلانے پرمجبور ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر کے وسائل میں سے غیرملکی لیبر کے تحفظ اور ان کی بہبود کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔ غیرملکی کارکنوں میں کرونا کے پھیلنے کے خطرات بڑھ رہےہیں اور ہر چوتھا شخص کرونا کی بیماری کا شکار ہورہا ہے۔

اخبار 'گارڈین' کے مطابق قطر میں 20 لاکھ سے زاید غیرملکی کارکن کام کررہے ہیں۔ اب تک قطر میں موجود 25 فی صد غیرملکی لیبر کے کرونا کا شکار ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ اعدادو شمار گذشتہ 10 دن میں سامنے آئے ہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق 11مارچ کو قطر میں کرونا کے غیرملکی متاثرین کی تعداد 238 تھی۔ یہ غیرملکی قطر کے صنعتی زون میں قیام پذیر تھے جہاں پرتین لاکھ 69 ہزار افراد قیام پذیر ہیں۔ اس کے بعد دوحا پولیس نے 9 کلو میٹر کے علاقے کو مکمل طورپر سیل کردیا۔ اس کے بعد ہزاروں غیر ملکی شہری اس چھوٹے سے علاقے میں بند ہو کررہ گئے ہیں۔