اسد رجیم اور روس میں در پردہ کشیدگی میں ایک بار پھر سوشل میڈیا پر گرما گرمی

'بشارالاسد کے مقرب رکن پارلیمنٹ نے روس کو اس کی اوقات یاد دلا دی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

شامی حکومت کی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے ایک روس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بشارالاسد کے کسی مقرب سیاست دان کی طرف سے دمشق کے حلیف ماسکو کے خلاف سب سے زیادہ متشدد اور تلخ انداز بیان ہے۔ یہ تنقید مبینہ روسی لیکس کے جواب میں سامنے آئی ہے جس میں شامی حکومت کے سربراہ بشارالاسد کی اہمیت کو کم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کہا گیا ہے اسد رجیم ماسکو پر ایک بوجھ اور روسی قیادت کے لیے 'درد سر' بنی ہوئی ہے۔

درعا گورنری سے تعلق رکھنے والی حکومت نواز رکن پارلیمنٹ خالد العبود نے جمعرات کے روز 'فیس بک' پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے سامنے ایسی تحریریں آ رہی ہیں جن میں جن میں روس کے نئے کردار کی بات کی گئی ہے۔ یہ نئی لیکس روس - شام تعلقات میں "منفی" کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ن تحریروں میں بشارالاسد کے کردار کو محدود کرنے، انہیں قابو میں رکھنے اور انہیں روس کےلیے ایک بوجھ قرار دینے جیسے نا مناسب رویے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

خالد العبود نے "موجودہ سیاسی مفروضوں" کے جواب میں اپنی طرف سے ایک مفروضہ پیش کیا۔ 'لیکن بشارالاسد پوتین سے ناراض ہوجائیں تو کیا ہوگا '؟۔ کے عنوان سے العبود نے ایک طویل مقدمہ لکھا ہے۔ اس طویل بیان میں انہوں ے روس کی طرف سے اسد رجیم کو دی جانے والی در پردہ دھمکیوں کی بھی بات کی گئی ہے۔ ۔ان کا کہنا ہے کہ لاذقیہ میں بشارالاسد کے حامیوں اور روسی فوج کے درمیان محاذ آرائی کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہےہیں۔ اللاذقیہ میں حمیمیم فوجی اڈہ پہلے ہی روس کے پاس ہے۔

ایرانی کردار کو خراج تحسین

ایک طویل تعارف کے بعد جس میں العبود نے شام میں سنہ 2015ء سے روسی فوجی مداخلت کا پس منظر بیان کیا ہے۔ العبود نے کہا کہ روسی صدر [پوتین] اب بشارالاسد پر کچھ حکم نہیں دے سکتے ہیں، کیوں؟ انہوں نے خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ پوتین کو شام میں اپنے ملک کے مفادات کے تحفظ کے بشارالاسد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شام میں ایرانی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بشارالاسد اور ایران کے باہمی تعلقات میں روس کےساتھ تعلقات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

العبود کا کہنا تھا کہ یہ شامی صدر بشار الاسد ہیں جنہوں نے روسی صدر کو "علاقائی سطح پر کھلاڑی بننے کی صلاحیت" دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بشار الاسد کے بارے میں غلط تصور کرنا روس کے حق میں نہیں ہوگا۔ اس کے بعد انہوں نے اسد رجیم اور روسی تصادم کے امکانات کی فہرست بیان کی۔ مبصرین نے خالد العبود کے انداز بیان کو روس کےاہم ترین حلیف عرب ملک شام کے صدر بشارالاسد کے مقرب کی طرف سے غیر مسبوق تنقید قرار دیا۔

العبود نے کہا اگر واقعتا شامی صدر کو روس کے ساتھ کچھ کرنا ہے تو بشار الاسد پوتین کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ وہ مزید کہتے ہیں: کیا ہوگا اگر بشار الاسد پوتین کو شکست دے کر اس کے پاؤں تلے سے قالین کھینچ لیں؟ اگر اسد شام میں پوتین سے ناراض ہوجائیں تو کیا ہوگا؟ پھر وہ پوچھتا ہے اگر صدرالاسد نے آج محسوس کیا کہ پوتین شام میں دمشق کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں تو پھر کیا ہوگا؟

پھر اس نے سب سے سنگین دھمکی آمیز بیان دیتے ہوئے استفسار کیا کہ شامی صدر بشارالاسد اللاذقیہ میں جاری کشیدگی کی آگ میں روس کو بھی جھونک دے۔ اس کے بعد روس کا کیا رد عمل ہوگا اگر شامی انٹیلی جنس ہزاروں جنگجوئوں کے ذریعے اللاذقیہ کے پہاڑوں میں روس کے خلاف انتقامی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے روس کو ایک قابض ملک قرار دیں؟

مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خالد العبود کی طرف سے روسی صدر اور شام ۔ روس تعلقات کے حوالے سے جو سوالات اور خدشات اٹھائے ہیں وہ غیر مسبوق ہیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ در پردہ روس اور شام کے درمیان بعض معاملات پر کافی کشیدگی بھی موجود ہے اگرچہ اعلانیہ اس کا اظہار نہیں کیا جا رہا ہے۔ خالد العبود نے اس کا اظہار کر کے یہ تاثر دیا ہے کہ روسی قیادت بشارالاسد کو اپنے لیے ایک بوجھ سمجھ رہے ہیں۔

روس اور شام کے درمیان جاری در پردہ کشیدگی اور اختلافات میں بشارالاسد کے قریبی رشتہ دار رامی مخلوف کا معاملہ بھی شامل ہے۔

شامی صدر بشار الاسد اور اس کے ماموں زاد بھائی رامی مخلوف کے درمیان اختلافات اعلانیہ صورت میں منظر عام پر آ گئے۔

مخلوف حال ہی میں 9 برس میں پہلی مرتبہ فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک وڈیو کے ذریعے منظر عام پر آئے۔ انہوں نے اپنی پھوپھی کے بیٹے (بشار الاسد) سے اپیل کی کہ وہ مخلوف کی ملکیت ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کو بچانے کے لیے مداخلت کریں۔

مخلوف نے اتوار کے روز الزام عائد کیا تھا کہ سیکورٹی فورسز کے ادارے ان کی کمپنی کے ملازمین کو گرفتار کر رہی ہیں اور ساتھ ہی مخلوف پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ کمپنی سے دست بردار ہو جائیں۔ طویل عرصے سے منظر عام سے غائب مخلوف مختلف کمپنیوں کے مالک ہیں۔ ان میں نمایاں ترین "Syria Tel" ہے جو شام میں ٹیلی کمیونی کیشن مارکیٹ میں 70% حصے کی مالک ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق سیکورٹی اداروں نے اتوار کے روز سیریا ٹیل کمپنی کے 28 سے زیادہ مینجرز اور ٹکنیشنز کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاریاں روس کی ہدایت پر عمل میں آئیں۔ چھاپوں اور گرفتاریوں کی مذکورہ کارروائیوں میں روسی فورسز بھی شریک رہیں۔ المرصد کے مطابق مخلوف ابھی تک آزاد ہیں اور انہیں حراست میں نہیں لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں