.

خامنہ ای کی ٹویٹ اور امریکا کی شرائط کے آگے جھکنے کی قیاس آرائیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے یوم ولادت کے موقع پر ٹویٹر پر فارسی زبان میں ایک ٹویٹ کی ہے۔ ٹویٹ میں ایسی عبارتیں استعمال کی گئی ہیں جو حضرت حسن کی اموی خلیفہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ صلح کو سراہتی ہیں۔ اس بات نے ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ خامنہ ای ممکنہ طور پر اس ٹویٹ کے ذریعے "امریکا کے ساتھ صلح" اور واشنگٹن کے ساتھ خفیہ اور اعلانیہ مذاکرات کے آغاز کے حوالے سے "گرین سگنل" دینا چاہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جب 2013 میں "لچک شجاعت ہے" کا نعرہ لگا کر ایسا کیا گیا تھا۔

خامنہ ای نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "میں سمجھتا ہوں امام حسن تاریخ اسلام میں سب سے زیادہ شجاعت کے حامل شخص ہیں۔ وہ حقیقی مصلحت کی راہ میں خود کو قربان کرنے کے لیے تیار وہ گئے۔ انہوں نے صلح کر لی یہاں تک کہ اسلام اور قرآن کو بچانے اور تاریخ میں آنے والی نسلوں کو درست راہ دکھانے میں کامیاب رہے"۔

اس سے قبل 17 ستمبر 2013 کو خامنہ ای نے ایرانی پاسداران انقلاب کی سینئر قیادت کے ساتھ اجلاس کے دوران "لچک شجاعت ہے" کا وصف استعمال کیا۔ یہ اجلاس 24 ستمبر 2013 کو نیویارک میں ایرانی اور امریکی وزراء خارجہ کی پہلی خفیہ ملاقات سے سات روز قبل منعقد ہوا۔

ویب سائٹ رپورٹ کے مطابق خامنہ ای نے مذکور اجلاس کے دوران کہا کہ "میں درست سمت میں سفارتی طور پر متحرک ہونے کے خلاف نہیں ہوں۔ میں کئی برس سے لچک شجاعت ہے کی عبارت پر یقین رکھتا ہوں"۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سامنے رہبر اعلی کے خطاب کے 7 روز بعد 24 ستمبر 2013 کو صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے تقریر کی۔ اس تقریر کو عالمی میڈیا اور بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں بڑے پیمانے پر توجہ حاصل ہوئی۔ تقریر میں روحانی کا کہنا تھا کہ "ایران دوسروں کے ساتھ تعمیری معاملہ بندی چاہتا ہے اور اس سلسلے میں وہ امریکا کے ساتھ جارحیت کے لیے کوشش نہیں کر رہا"۔

یہ بات خامنہ ای کے بیان اور حسن روحانی کے عندیے تک محدود نہیں رہی بلکہ اسی روز پس پردہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اس وقت کے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے پہلی ملاقات کی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "تسنيم" کے مطابق جان کیری نے اپنی کتاب "Every Day is Extra" میں اس پہلی خفیہ ملاقات کے حوالے سے لکھا ہے کہ "میں اور جواد ظریف اس روز اقوام متحدہ کی عمارت میں ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے۔ ہم نے اس چھوٹی سی جگہ پر آدھے گھنٹے تک گفتگو کی"۔

کیری نے مزید لکھا ہے کہ "روانگی سے قبل ہم نے معاملات کے خفیہ رکھنے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا .. شروع سے ہی ہم دونوں نے یہ تسلیم کیا کہ عمل کی کامیابی کے واسطے ہمارے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہمیں رابطے کے لیے ایک اوپن لائن کی ضرورت تھی تا کہ ہنگامی اور حساس امور پر براہ راست بات چیت کی جا سکے۔ ہم نے اس پہلی نشست میں عہد کیا کہ ہم اپنے تنازعات کو اعلانیہ طور پر یا میڈیا کے ذریعے حل نہیں کریں گے۔ اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ ہم اس کو خفیہ طور حل کرنے کے لیے وہ سب کریں گے جو ہمارے بس میں ہے"۔

اس کے بعد خامنہ ای نے روحانی کی حکومت کو گرین سگنل دے دیا تا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ خفیہ اور اعلانیہ بات چیت کا آغاز کرے۔ اس کے دو برس کے بعد جولائی 2015 میں ایران اور عالمی قوتوں (5+1 ممالک) کے درمیان ایک سمجھتے پر دستخط ہوئے۔ اس کو جوہری معاہدے کا نام دیا گیا۔

تاہم یہ معاہدہ طویل عرصے تک نہیں چل سکا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے کرسیِ صدارت پر برا جمان ہونے کے بعد انہوں نے اس سمجھوتے کو "تاریخ کا بدترین" معاہدہ قرار دیا۔ اس طرح 8 مئی 2018 کو ٹرمپ نے معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کا اعلان کر دیا۔ ساتھ ہی ایران کے خلاف مزید شدت کے ساتھ دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے احکامات جاری کیے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے 12 شرائط رکھ دیں۔ ان میں جوہری معاہدے کے حوالے سے نئے سرے سے مذاکرات ، ایران کی اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام سے دست برداری اور ایران کا اپنی ملیشیاؤں کے ذریعے علاقائی امن کو خطرے میں ڈالنے کا سلسلہ روک دینا اہم ترین امور ہیں۔

اس وقت تہران کو 2013 کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اقتصادی حالات کا سامنا ہے۔ ایران میں غربت اور بے روزگاری کی شرح خوف ناک طریقے سے بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب ایرانی بجٹ میں آمدنی کا مرکزی ذریعہ یعنی تیل کی برآمدات رک گئی ہیں۔ اس وجہ سے ایرانی رہبر اعلی کی جانب سے "حضرت حسن کی حضرت معاویہ کے ساتھ صلح" کے حوالے سے ٹویٹ نے ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ تہران ممکنہ طور پر ایک بار پھر "لچک بہادری ہے" کا سہارا لے کر پابندیوں کے سائے میں امریکا کے ساتھ بات چیت کو قبول کر لے گا۔

تاہم اس سب کے باوجود ایرانی رہبر اعلی کی ٹویٹ کے حوالے سے کوئی قطعی حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ ایران مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے امریکا کی جانب سے متعین کردہ مشکل اور سخت شرائط کو قبول کر لے گا۔