.

یوکرین طیارے کا منظرنامہ دُہرایا گیا ، ایران نے اپنے ہی بحری جہاز کو نشانہ بنا ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں سال جنوری میں یوکرین کا ایک مسافر طیارہ دو میزائلوں کا نشانہ بن کر تباہ ہو گیا تھا۔ ایرانی حکام نے حتمی اعلان میں بتایا کہ پاسداران انقلاب نے غلطی سے طیارے کو نشانہ بنا ڈالا۔ اسی طرح آج پیر کو علی الصبح ایرانی فوج نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ اس کا ایک بحری جہاز حادثے کا شکار ہو گیا۔

ایران کے جنوب میں بندر عباس میں فرسٹ میرین ایریا کے تعلقات عامہ کے دفتر نے ایک مختصر بیان میں واضح کیا ہے کہ "اتوار کو دوپہر کے بعد فوج کا ایک بحری جہاز حادثے کا شکار ہو گیا۔ یہ واقعہ ایرانی بحریہ کی ایک سمندری مشق کے دوران سامنے آیا۔ مشق میں متعدد بحری جہاز شریک تھے"۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ حادثے کے نتیجے میں اب تک ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ متعدد عسکری اہل کار زخمی ہو گئے۔

ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے بحری جہاز کا نام "كنارک" ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز خلیج عرب پر پھیلے جاسک کے ساحلوں کے نزدیک شروع ہونے والی مشق کے دوران پیش آیا۔ ایرانی فوج کے جنگی بحری جہاز "جماران" نے غلطی سے "كنارک" جہاز کی جانب ایک میزائل داغ ڈالا۔ اس "غلطی" کے نتیجے میں 40 کے قریب فوجی اہل کار ہلاک اور زخمی ہو گئے جن میں سینئر افسران بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے 11 جنوری کو اعلان کیا تھا کہ وہ 8 جنوری کو یوکرین کے مسافر طیارے کے کروز میزائل کے ذریعے مار گرائے جانے کے واقعے کی ذمے داری قبول کرتی ہے۔ اس حادثے میں 176 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاسداران کا دعوی تھا کہ "مذکورہ طیارے نے اپنی واپسی کے روٹ سے انحراف کیا تھا"۔ بعد ازاں یوکرین نے نقشوں کی مدد سے اس کی تردید کر دی تھی۔

اس سے قبل ایران کی سول ایوی ایشن کے سربراہ علی عابد زادہ نے باور کرایا تھا کہ تہران کے نزدیک گر کر تباہ ہونے والے طیارے کو میزائل نہیں لگا تھا۔ اس بیان کے ایک روز بعد پاسداران انقلاب نے اس حادثے کے حوالے سے ذمے داری قبول کر لی تھی۔