.

لیبیا میں ترک نواز جنگجو کمانڈر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی نیشنل آرمی کےمیڈیا وار سیل کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ دارالحکومت طرابلس میں ایک جھڑپ کے دوران ترک نواز ایک سینیر کمانڈر کو ہلاک کردیا گیا۔ یہ واقعہ طرابلس میں عین زارہ کے مقام پر پیش آیا۔

اطلاعات کے مطابق ترک نواز جنگجو گروپ'فیلق الثانی' کےکمانڈر محمد ھنداوی کو دارالحکومت طرابلس میں اتوار کی صبح ایک خصوصی کارروائی میں ہلاک کیا گیا۔

لیبی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کو کامیابی سے مکمل کیا گیا جس میں ایک جنگجو گروپ کے کمانڈراور اس کےساتھیوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

خیال رہےکہ لیبیا میں قومی وفاق حکومت اور لیبی فوج کےدرمیان 19 جنوری 2020ء کو طے پائے جنگ بندی معاہدے کے باوجود ترکی نے کہا ہے کہ اگر خلیفہ حفتر کی زیرکمان لیبیا کی نیشنل آرمی طرف سے ہمارے سفارتی مشنوں پر حملے جاری رہے تو اس کے خلاف کارروائی آئینی ہدف ہوگی۔

ترک وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ لیبیا میں نیشنل آرمی ترکی کے مفادات اور اس کےسفارتی مشنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو حفتر فورس کے خلاف کارروآئی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

قبل ازیں ہفتے کےروز معیتقہ ہوائی اڈے پر ہفتے کے روز ہونے والے حملے پر ترکی نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اسے جنگی جرم قرار دیا۔ ترکی نے الزام عاید کیا ہے کہ لیبی فوج نےمعیتقہ فوجی اڈے پر راکٹوں اور توپ خانے سے گولہ باری کی ہے۔

دوسری طرف لیبیا کی نیشنل آرمی کا کہنا ہے کہ ترکی شام سے جنگجو بھرتی کرکے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی افرادی قوت میں اضافہ کررہا ہے۔ لیبی فوج کے مطابق گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک شام سے 8 ہزار اجرتی قاتلوں کو لڑائی کے لیے شام سے لیبیا لایا گیا۔ شام میں انسانی حقوق کے لیےکام کرنےوالے ادارے سیرین آبزر ویٹری نے بھی کہا ہے کہ ترکی نے شام سے تعلق رکھنے والے 8 ہزارجنگجوئوں کو جنگی تربیت دینے کے بعد لیبیا میں تعینات کیا ہے جب کہ ہزاروں کی تعداد میں مزید جنگجوئوں کو بھی تیار کیا جا رہا ہے۔