.

ٹیکس میں اضافہ اور مہنگائی الاؤنس کا خاتمہ معیشت کو بچانے کے لیے ہے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی معیشت کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے مملکت نے کئی اقدامات پر مشتمل ایک پیکج کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات میں ٹیکس میں اضافہ اور مہنگائی الاؤنس کو روک دینا شامل ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان جن کو معیشت اور منصوبہ بندی کی وزارت بھی سونپی گئی ہے ،،، انہوں نے پیر کے روز ان اقدامات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

الجدعان کے مطابق مملکت کی جانب سے آئندہ کیے جانے والے اقدامات سابقہ فیصلوں کی تکمیل کے لیے ہوں گے۔ ان اقدامات کا مقصد کرونا کے سبب جنم لینے والے بحران کے سماجی ، اقتصادی اور صحت کے حوالے سے منفی اثرات پر روک لگانا ہے۔

سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں، غیر ملکی مقیمین اور معیشت کو بچانے کے لیے مسلسل فیصلے کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی سطح پر کرونا کی وبا پھیلنے کے سبب مملکت کی معیشت کو تین دھچکے لگے۔

الجدعان کے مطابق پہلا جھٹکا تیل کی طلب میں غیر معمولی نوعیت کی کمی ہے جس نے قیمتوں پر منفی اثرات مرتب کیے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی آمدنی میں شدید کمی واقع ہوئی جو مملکت کے عام بجٹ میں آمدنی کا بڑا ذریعہ شمار ہوتا ہے۔

دوسرا جھٹکا یہ کہ مملکت میں شہریوں اور مقیمین کی صحت و سلامتی کے واسطے متعدد حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ ان کے سبب مقامی اقتصادی سرگرمیوں کا ایک بڑا سلسلہ رک گیا یا کم ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں مملکت کے نان آئل ریونیو کے حجم اور اقتصادی نمو پر منفی اثرات پڑے۔

اس سلسلے میں پبلک فنانس کو متاثر کرنے والا تیسرا دھچکا وہ ہنگامی ضروریات ہیں جو منصوبہ بندی میں شامل اخراجات کے ضمن میں نہیں تھیں۔ اس حوالے سے حکومت کی مداخلت سے صحت کے سیکٹر کو بھرپور سپورٹ فراہم کی گئی تا کہ صحت سے متعلق خدمات میں سیکٹر کی علاج کی قدرت اور صلاحیت میں اضافہ کیاجا سکے۔ اسی سلسلے میں معیشت کو سپورٹ کرنے۔ کرونا کی وبا کے اثرات کو کم کرنے اور شہریوں کی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے متعدد منصوبوں کا آغاز کیا گیا۔

سعودی وزیر الجدعان نے واضح کیا کہ ان تمام چیلنجوں کے نتیجے میں حکومتی آمدنی میں کمی آئی ،،، اور پبلک فنانس پر اس حد تک دباؤ پڑا کہ بعد ازاں معیشت کو ضرر کے بغیر اس سے نمٹنا دشوار ہو گیا۔ یوں اخراجات میں مزید کمی کو یقینی بنانا اور نان آئل ریونیو کے استحکام کو سپورٹ کرنے کے لیے اقدامات تلاش کرنا لازم ہو گیا۔

لہذا وزارت مالیات اور وزارت معیشت و منصوبہ بندی نے اس پیش رفت کا سامنا کرنے کے لیے مجوزہ اقدامات پیش کیے۔

اس سلسلے میں تقریبا 100 ارب ریال مالیت کے اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح یکم جون 2020 سے مہنگائی الاؤنس روک دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یکم جولائی 2020 سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس یعنی VAT کی شرح کو 5% سے بڑھا کر 15% کر دیا گیا ہے۔

اخراجات کو مزید کارگر اور مؤثر بنانے کے لیے ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی ان مالیاتی خصوصیات کا جائزہ لے گی جو تمام شہری کارکنان اور کنٹریکٹرز پر لاگو ہوتی ہیں۔ کمیٹی 30 روز کے اندر اپنی سفارشات مرتب کر کے پیش کرے گی۔

الجدعان نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ دنیا اس وقت ایسے بحران کا سامنا کر رہی ہے جس کی جدید تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ غیر یقینی صورت حال کا احساس، اس کی مدت کو جاننے میں دشواری اور روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والی پیش رفت ایسے امور ہیں جو حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چوکنا اور بیدار رہ کر ان س نمٹے۔ ساتھ ہی مناسب وقت پر مناسب اقدامات اور فیصلے کیے جائیں۔ مصلحت عامہ اور شہریوں اور مقیمین کی حفاظت اور بنیادی ضروریات اور مطلوبہ طبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ سعودی وزیر کے مطابق جو نئے اقدمات کیے گئے ہیں خواہ ان میں تکلیف بھی ہو ،،، یہ تمام تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے ،،، یہ مالی اور اقتصادی استحکام برقرار رکھنے کے واسطے مفید ہوں گی۔ اس میں وطن اور ہم وطنوں کا مفاد ہے۔