یمن: کرونا اور دیگر بیماریوں کے پھیلنے کے بعد عدن "متاثرہ شہر" قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں کرونا کی وبا کی روک تھام سے متعلق سپریم کمیٹی نے آئینی حکومت کے صدر مقام عدن کو متاثرہ شہر قرار دیا ہے۔ یہ اعلان شہر میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد 35 تک پہنچ جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ متاثرین میں سے 4 افراد فوت ہو چکے ہیں۔

سپریم کمیٹی نے پیر کو علی الصبح اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر کی گئی ایک ٹویٹ میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے سبب شہر میں کئی بیماریاں پھیل جانے کے بعد کیا گیا۔

سپریم کمیٹی نے اتوار کی شب ایک اعلان میں بتایا تھا کہ یمن میں کرونا وائرس کے 17 نئے کیسوں کا اندراج ہوا ہے۔ اس طرح وبائی مرض سے متاثرہ افراد کی کُل تعداد 51 تک پہنچ گئی ہے۔ متاثرہ افراد میں سے آٹھ مریض موت کا شکار ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں میں اپنے عملے کی سرگرمیاں معطل کردیں۔ ذرائع کے مطابق عالمی ادارے کے اس اقدام کا مقصد حوثیوں پر کرونا وائرس کے کیسوں کے حوالے سے زیادہ شفافیت اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

جنگ زدہ ملک کے دارالحکومت صنعاء اور شمالی علاقوں پر ستمبر 2014ء سے حوثیوں کا قبضہ چلا آرہا ہے جب کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا یمن کے جنوبی علاقوں پر کنٹرول ہے۔ اس نے جنوبی شہر عدن کو اپنا عارضی دارالحکومت بنا رکھا ہے اور وہ وہاں سے اپنی عمل داری والے علاقوں میں نظم ونسق چلا رہی ہے۔

حوثیوں نے اب تک کرونا کے صرف دو کیسوں کی تصدیق کی ہے اور ان میں ایک کی موت ہوچکی ہے۔ حالاں کہ حوثیوں کا یمن کے شمال میں واقع شہری مراکز پر کنٹرول ہے۔ اس بنا پر وہاں کرونا کے کیسوں کی تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے صنعاء ، ساحلی شہر حدیدہ ، شمالی صوبہ صعدہ اور وسطی صوبہ اِب میں کام کرنے والے اپنے ملکی اور غیرملکی عملے کے لیے ہدایت نامہ جاری کیا ہے اور انھیں کہا ہے کہ وہ تاحکم ثانی اپنی تمام نقل وحرکت ، اجلاسوں یا کسی قسم کی اور سرگرمیوں کو معطل کردیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں