.

الجزیرہ نے سلیمانی کے قصیدے سنانے والی پوڈکاسٹ کی ٹویٹ غائب کردی

قطری نشریاتی ادارے نے ایرانی جنرل کی شان بڑھانے والی پوسٹ کچھ دنوں بعد ڈیلیٹ کردی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے سرکاری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے گذشتہ ہفتے کے دوران ایک پوڈکاسٹ نشر کی تھی جس میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی تعریفوں کے پل باندھے گئے تھے۔ اس کے کچھ ہی روز بعد الجزیرہ نے اس پوڈ کاسٹ کو اپنے ٹویٹر پیج پر سے ہٹا دیا۔

الجزیرہ کی یہ پوڈ کاسٹ ادارے کی جانب سے "رموز" کے عنوان سے شروع کئے جانے والے سلسلے کا حصہ ہیں۔ قاسم سلیمانی کے بارے میں قسط کا آغاز کچھ اس طرح کیا گیا "ان کا ستارہ ایران عراق جنگ میں چمکا، پھر وہ ایران کے بیرونی محاذوں کے انجینئر بن گئے، ان کے نشان خطے کے سب سے متشدد علاقوں میں دیکھے جاسکتے ہیں جن میں شام، یمن، عراق شامل ہیں۔ ان کے قتل کے بعد دنیا میں تیسری جنگ عظیم کا شوشہ چھوڑ دیا گیا۔ یہ قاسم سلیمانی کون ہیں؟"

اس پوڈ کاسٹ کے ابتدائیے میں ڈرامائی موسیقی کا استعمال کرتے ہوئے جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی گئی اور پھر ایک صوتی اداکار کی آواز میں بتایا جاتا ہے: "میں سلیمانی ہوں، اللہ کا سپاہی۔ میرے نام سے شیطان کانپتا ہے۔ میں اسلامی انقلاب کا ادنیٰ سپاہی ہوں۔ بطور سپاہی میں شہادت کی سعادت پانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔"

امریکی حکومت نے ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد ادارہ قرار دیا ہوا ہے۔

پھر سلیمانی کے طور پر بولنے والا اداکار کہتا ہے "ہم نے امریکی اور صہیونی چالوں اور دہشت گردی سے شام، اس کی عوام اور پورے خطے کا دفاع کیا اور ایران شام میں استحکام کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ہم نے غیر متشدد جہادی گروپس کو اپنے تجربے کی مدد سے شامی عوام کو مدد دی۔"

پوڈ کاسٹ کا اداکار مزید کہتا ہے" حزب اللہ، حماس اور اسلامی جہاد ہمارے پراکسی گروپ نہیں بلکہ صہیونی حکومت کے خلاف مزاحمت میں ہمارے برابر کے شریک ہیں۔"

امریکی انتظامیہ نے جنوری میں قاسم سلیمانی پر قاتلانہ حملے کے بعد بتایا تھا کہ سلیمانی عراق، لبنان اور مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا تھا۔

قطری حکومت نے باضابطہ طور پر ایران کو سلیمانی کے قتل پر تعزیتی پیغام پہنچایا تھا اور ان کے قتل پر دکھ اور رنج کا اظہار کیا ۔ قطری وزیر خارجہ نے اس موقع پر بیان میں کہا کہ "ہم اپنے آپ کو ایران کے حلیف کے طور پر دیکھتے ہیں۔"