.

سعودی عرب کے جنوب میں آبشار اور جھرنوں کے نادر مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں موسلادھار طوفانی بارشوں کے بعد عسیر صوبے کے ضلع احد رفیدہ میں نادر نوعیت کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

اس حوالے سے فوٹوگرافر رشود الحارثي نے مذکورہ ضلعے کے گاؤں "الحبلہ" میں آبشار اور جھرنوں کی دل موہ لینے والی تصاویر اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کی ہیں۔ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے الحارثی نے بتایا کہ "الحبلہ" گاؤں عسیر صوبے کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔ یہ موسلادھار بارشوں کے موقع پر خوب صورت ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

الحبلہ ایک قدیم گاؤں ہے۔ اس کے جغرافیائی محل وقوع نے گاؤں کی آبادی کو زمین کے ایک ٹکڑے میں الگ تھلگ کر دیا ہے۔ یہ رقبہ ایک مربع کلو میٹر سے کچھ کم ہے۔ اس زمین کی قدرتی ساخت نے یہاں کے لوگوں کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنی ضرورت کی غذائی اشیاء پہنچانے کے لیے رسّے کو بطور ذریعہ استعمال کریں۔ اس طرح پہاڑوں پر چڑھنا ،،، بیرونی دنیا کے ساتھ رابطے کا واحد طریقہ بن گیا۔

رشود نے مزید بتایا کہ الحبلہ گاؤں ایک گہری کھائی میں واقع ہے۔ یہ گہرائی 170 سے 300 میٹر کے درمیان ہے۔ یہاں کے لوگ گاؤں سے باہر جانے اور واپس آنے کے واسطے رسّی کا استعمال کیا کرتے تھے۔ اسی طرح وہ سامان اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی منتقلی کے لیے بھی رسی کو استعمال میں لاتے تھے۔ عربی میں رسی کو الحبل کہتے ہیں لہذا اس کے استعمال کی وجہ سے گاؤں کا نام الحبلہ پڑ گیا۔