.

سویڈن: کرونا کو مدّ نظر رکھتے ہوئے "ایک گاہک" ریستوران کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن میں ایک میز اور ایک نشست پر مشتمل ریستوران نے اپنے پہلے گاہک کا استقبال کیا۔ یہ ریستوران تفریح کے تجربے کو گاہکوں کی کرونا وائرس سے حفاظت کے ساتھ اکٹھا کرنے کی ایک کوشش ہے۔

ایک سبزہ زار میں واقع اس نئے ریستوران کا نام Table for One ہے۔ یہاں کوئی ویٹر کام نہیں کرتا۔ مہمان کو کھانا ایک باسکٹ کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ باسکٹ ریستوران کے کچن کی کھڑکی سے نکل کر چرخی (گراری) کے نظام کے ذریعے گاہک کی میز تک پہنچ جاتی ہے۔

ریستوران کے بیرونی دراوزے پر پہنچنے کے بعد ایک دوسری چرخی دار رسی گاہک کو کھانے کی میز تک لے کر جاتی ہے۔ شیف ریسموس پیرسن کے مطابق گاہک کی میز تک پہنچنے والی پہلی باسکٹ مشروب کی حامل ہوتی ہے۔

یہ ریستوران شیف پیرسن نے اپنی شراکت دار لینڈا کارلسن کے ساتھ کھولا ہے۔ پیرسن کے مطابق اس نوعیت کا خیال انہیں رواں سال مارچ میں آیا جب لینڈا کے والدین ملاقات کے لیے آئے۔ اس واسطے ان کے لیے بیرونی مقام پر میز لگائی گئی اور کھانے کو کھڑکی کے ذریعے میز تک پہنچایا گیا۔

پیرسن نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے لیے سفر کر کے دور دراز مقام جانا اس وقت بہت مشکل ہے۔ لہذا میرے نزدیک داخلی سفر کا بہترین ذریعہ کم از کم کھانا اور قدرتی مناظر ہے۔

سویڈن میں یورپ کے اکثر ممالک کے برعکس کرونا وائرس کی وبا کے دوران ریستورانوں کو کھلے رہنے کی اجازت ہے۔ اس سلسلے میں ریستورانوں کو سماجی فاصلے کے معیار کو برقرار رکھنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

لنڈا کارلسن کے مطابق ایک میز پر مشتمل ریستوران پورے مئی کے دوران مکمل طور پر بُک ہو چکا ہے۔ جون اور جولائی کے مہینوں کے لیے بعض اوقات ابھی بکنگ کے لیے موجود ہیں۔ ریستوران میں موسم کی خرابی اور تیز بارشوں کی صورت میں حفاظتی اقدامات کا انتظام کیا گیا ہے۔