.

اسرائیل کے سابق آرمی چیف گابی اشکنازی نئے وزیر خارجہ نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گابی اشکنازی کومخلوط حکومت میں ملک کا نیا وزیرخارجہ نامزد کیا گیا ہے۔

اسرائیل کی نئی مخلوط حکومت میں شامل دوسری بڑی جماعت بلیو اینڈ وائٹ اتحاد نے انھیں وزیرخارجہ نامزد کیا ہے۔وہ چار عشرے تک اسرائیل کی مسلح افواج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔انھوں نے اپنے تقرر سے ایک روز قبل ہی مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کی ہے۔

اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی اورمتبادل وزیراعظم ، سابق آرمی چیف بینی گینز کے زیر قیادت بلیو اینڈ وائٹ اتحاد پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت جمعرات کو حلف اٹھا رہی ہے۔

مخلوط قومی حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات کے دوران میں وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کے قلم دان بلیو اور وائٹ کو دینے سے اتفاق کیا گیا تھا اور بینی گینز خود وزارت دفاع کا قلم دان سنبھالیں گے۔

گابی اشکنازی نازی جرمنوں کی دوسری عالمی جنگ کے دوران میں یہود کے خلاف فوجی کارروائی ہولو کاسٹ میں زندہ بچ جانے والے ایک بلغاری یہودی کے بیٹے ہیں اور ان کی ماں کا تعلق شام سے تھا۔وہ حیفا یونیورسٹی اور ہارورڈ بزنس اسکول کے تعلیم یافتہ ہیں۔

انھوں نے 1972ء میں اسرائیلی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور ایک سال کے بعد یوم کپور کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔انھوں نے ایک مسافر طیارے سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کی مشہور کمانڈو کارروائی میں بھی حصہ لیا تھا۔فلسطنی اور جرمنی مزاحمت کار ایک طیارہ اغوا کرکے یوگنڈا کے مرکزی ہوائی اڈے پر لے گئے تھے۔اس آپریشن میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بھائی یوناتن ہلاک ہوگئے تھے۔

اشکنازی نے بعض متنازع فوجی کارروائیوں میں بھی حصہ لیا تھا۔ ان کے زیر قیادت اسرائیلی فوجیوں ہی نے 2010ء میں ترکی سے غزہ جانے والے بحری جہازں پر مشتمل امدادی قافلے فریڈم فلوٹیلا پر دھاوا بول دیا تھا۔اس حملے کے الزام میں 2012ء میں ترکی میں اشکنازی اور اسرائیلی فوج کے تین دیگراعلیٰ عہدے داروں پر ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔

اسرائیل کی غزہ پر 2008-2009ء میں مسلط کردہ جنگوں کے وقت گابی ہی صہیونی فوج کے سربراہ تھے۔وہ 2007ء سے 2011ء تک اسرائیل کے چیف آف آرمی اسٹاف رہے تھے۔

ان کی جگہ بینی گینز کو آرمی چیف مقرر کیا گیا تھا۔66 سالہ اشکنازی حالیہ برسوں کے دوران میں نجی شعبے میں کام کرتے رہے ہیں اور تیل اور گیس کی تلاش کرنے والی ایک کمپنی کے سربراہ تھے۔

انھوں نے گذشتہ سال اسرائیلی سیاست میں قدم رکھنے کا اعلان کیا تھا اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنے کرنے والے وزیراعظم نیتن یاہو کی یہ کہہ کر مخالفت شروع کی تھی:'' قیادت کو مثال قائم کرنی چاہیے۔''انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ '' جب آپ تین مرتبہ مقدمے میں ماخوذ کیے جاچکے ہیں تو پھرآپ کیونکر وزیراعظم ہوسکتے ہیں؟''