.

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی اسرائیل آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بدھ کی صبح اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ اپنے دورے میں وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتین یاہو کے ساتھ ایران کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے بعض حصوں کو ضم کرنے کے منصوبے پر بھی گفتگو ہو گی۔

اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق حفاظتی اقدام کے طور پر پومپیو امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین سے ملاقات نہیں کریں گے۔ فریڈمین "سانس میں دشواری کی علامات" میں مبتلا ہیں۔ تاہم ان کے طبی ٹیسٹ اور معائنوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کا شکار نہیں ہوئے۔

پومپیو اور نیتن یاہو کے درمیان بات چیت کے ایجنڈے کا ایک مرکزی معاملہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے بعض حصوں کو ضم کرنے کا اعلان ہے۔ اس ارادے پر عمل سے یقینی طور پر فلسطینیوں اور اکثر عرب ممالک کے علاوہ مغرب میں اسرائیل کے کئی حلیفوں میں بھی غصے کی آگ بھڑک اٹھے گی۔

اسرائیل پہنچنے کے بعد پومپیو نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ بات چیت کے اہم ترین موضوعات میں کرونا وائرس اور خطے میں ایران کے ساتھ پایا جانے والا تناؤ ہے۔

اسرائیلی اخبار ہیوم کے ساتھ انٹرویو میں پومپیو کا کہنا تھا کہ "ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ ہم فسلطینی قیادت کو اس بات پر قائل کر لیں گے کہ (صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعارف کرائے گئے) امن کے ویژن کی بنیاد پر اسرائیلیوں کے ساتھ بات چیت ان کے لیے لازم ہے"۔

پومپیو نے اس بات سے انکار کیا کہ امریکی انتظامیہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے بعض علاقوں کو ضم کرنے کی تائید کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وہ نیتن یاہو اور گینٹز کے نقطہ ہائے نظر سنیں گے۔

اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل آئندہ چند ہفتوں میں مذکورہ علاقوں کو ضم کرنے کا آغاز کر سکتا ہے۔

نیتن یاہو اس بات کا ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ اور ان کی نئی اتحادی حکومت کل جمعرات کے روز حلف اٹھا لے۔ حکومت کے ایجنڈے میں یہودی بستیوں اور مغربی کنارے میں غور اردن پر خود مختاری کے اعلان کا امکان شامل ہے۔ اس کا مطلب اس اراضی کو اسرائیل میں ضم کیا جانا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا کی حمایت یافتہ امن بات چیت سال 2014 میں ختم ہو گئی تھی۔