.

قطر کی جانب سے اسرائیلی طبی ٹیموں کے لیے مفت فضائی ٹکٹس کا تحفہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی قومی فضائی کمپنی "قطر ایئرویز" نے تصدیق کی ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے خلاف سرگرم طبی ٹیموں کے لیے اعلان کردہ ایک لاکھ مفت فضائی ٹکٹس میں اسرائیل کے طبی اہل کار بھی شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس اقدام کا مقصد "کوویڈ-19 کی متعدی بیماری سے متاثرہ افراد کی دیکھ بھال اور نگہداشت کے واسطے ان افراد کے کام پر شکریہ ادا کرنا ہے"۔ یہ بات اسرائیلی اخبار "ہآرٹز" نے امریکی نیوز چینل CNN کے حوالے سے بتائی۔

اس تحفے (مفت فضائی ٹکٹس) کو "دلیرو ! آپ لوگوں کا شکریہ" کا عنوان دیا گیا ہے۔ مفت ٹکٹوں کی تقسیم 12 مئی سے شروع ہوئی ہے اور یہ سلسلہ 18 مئی تک جاری رہے گا۔ قطر ایئرویز کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق دنیا کے تمام ممالک کے طبی نگہداشت کے ماہرین اس تحفے (مفت ٹکٹس حاصل کرنے) کے اہل ہیں۔

امریکی چینل سی این این کے ساتھ انٹرویو میں قطر ایئرویز کے چیف ایگزیکٹو اکبر الباکر سے پوچھا گیا کہ آیا یہ اسکیم ان ممالک پر بھی لاگو ہو گی جن کو قطر ممکنہ طور پر دشمن شمار کرتا ہے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ "طبی شعبوں میں کسی قسم کی تفریق یا رکاوٹ نہیں پائی جاتی"۔ اس بیان کے مطابق صحت کے سیکٹر میں کام کرنے والے اسرائیلی کارکنان بھی دنیا کے کے دیگر ممالک کی طبی ٹیموں کی طرح اسرائیل کی آبادی کی بنیاد پر مفت فضائی ٹکٹس کے حصول کے لیے درخواست پیش کر سکیں گے۔

اگرچہ قطر کی سرکاری فضائی کمپنی قطر ایئرویز کی اسرائیل آمد و رفت کے لیے فضائی پروازیں نہیں ہیں۔ تاہم اسرائیلی مسافروں کو ٹرانزٹ کے طور پر دوحہ کے ہوائی اڈے کے راستے جانے کی اجازت ہے۔ یہ خلیجی ممالک کی اُن بعض فضائی کمپنیوں کے برخلاف رجحان ہے جو اسرائیلی مسافروں کو اپنے جہازوں پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دیتی ہیں۔

ہآرٹز اخبار نے مزید کہا کہ فسلطینی اسرائیلی تنازع میں قطر ایک پیچیدہ کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ غزہ پٹی اور وہاں حماس کی حکومت کی مالی سپورٹ کرتا ہے تا کہ سنگین معاشی مسائل کا بدستور مقابلہ کیا جا سکے۔ دوسری جانب یہ مالی امداد اسرائیل کے زیر کنٹرول سرحدی گزر گاہوں کے راستے اسرائیلی ادارے کی سپورٹ سے پیش کی جاتی ہے۔

اسرائیلی اخبار نے اس بات کا حوالہ دیا کہ رواں سال اسرائیل کے سابق وزیر دفاع ایوگڈور لیبرمین نے ایک اسرائیلی نیوز چینل کو دیے گئے بیان میں انکشاف کیا تھا کہ موساد کے سربراہ یوسی کوہین نے قطر کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے قطری حکومت کو ہدایت کی کہ وہ حماس کے لیے رقوم کی منتقلی کا سلسلہ جاری رکھے۔