.

لیبی فوج کی گرفتاری شامی جنگجوئوں کو اسد رجیم کے حوالے کرنے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی نیشنل آرمی نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ ترکی ذریعے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے بھیجے گئے شامی جنگجوئوں کو گرفتار کرکے اسد رجیم کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

لیبی فوج کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام سے ترک نواز جنگجوئوں کی بڑی تعداد لیبیا میں طرابلس میں قائم قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے بھیجے جانے کی خبریں عام ہیں۔

لیبیا کی نیشنل آرمی کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ فوج نے شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم المرصد سے بات کرتے ہوئے ان افواہیں کی تردید کی ہے کہ نیشنل آرمی شامی جنگجوئوں کو پکڑ کر شامی حکومت کے حوالے کررہی ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ترکی کے اجرتی جنگجوئوں کو پکڑ کر شامی حکومت کے حوالے کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ترکی کی طرف سے لیبیا میں لڑائی کے لیے بھیجے گئے جنگجوئوں کی بڑی تعداد کو نیشنل آرمی نے گرفتار کیا ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ ان جنگجوئوں پر جنگی قیدیوں سے متعلق جنیوا معاہدے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ اجرتی قاتل ہیں۔ اس کے باوجود لیبی فوج ان کے ساتھ انسانی اصولوں کے تحت جنگی قیدیوں جیسا سلوک کررہی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روزشام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس نے بتایا تھا کہ لیبیا میں نیشنل آرمی کے خلاف لڑائی کے لیے بھرتی کیے گئے 16 شامی بچے تازہ لڑائی میں مارے گئے۔ ان بچوں کی عمریں 16 اور 18 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔

آبزرویٹری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی وفادار فورسز اور نیشنل آرمی کے درمیان لڑائی کے لیے ترکی نے شام سے مختلف جنگجو گروپوں سے تعلق رکھنے والے 150 بچوں کو بھرتی کرکے طرابلس بھیج رکھا ہے۔

آبزرویٹری نے ترکی کے حامی شام کے دھڑوں کی طرف سے شامی بچوں کی بھرتی کے مراحل اور انھیں تربیت دینے کے لیے انھیں راغب کرنے کے طریقوں اور پھر انہیں لیبیا کے علاقوں میں لڑنے کے لئے بھیجنے کے طریقوں پر روشنی ڈالی ہے۔ انسانی حقوق گروپ بچوں کی شام سے لیبیا منتقلی کے عمل میں ان بچوں کے والدین کو بے خبر رکھا گیا ہے۔ ترکی اور اس کے حامی گروپ شام میں لوگوں کے نا مساعد معاشی حالات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کررہےہیں۔

آبزرویٹری نے قابل اعتماد ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے بچے پہلے ادلب اور شمالی شام کے دیہی علاقوں سے عفرین کام کاج کے لیے لائے گئے۔ عفرین میں انہیں جنگی تریبت دی گئی اور ان کے والدین کو بتائے بغیر انہیں لیبیا میں قوم وفاق حکومت کی مدد کے لیے جنگ میں جھونک دیا گیا۔

ایک پندرہ سالہ بچے کو شمالی شام میں ایک پناہ گزین کیمپ میں سے عفرین زراعت اور کھیتی باڑی کے کام کی آڑ میں لایا گیا جہاں 20 دن کے بعد اس کا اپنے اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ حال ہی میں اس کے والدین کو ایک فوٹیج موصول ہوئی جس میں ان کے بیٹے کو لیبیا میں لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے والدین کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے۔

بچے کے والدین نے 'سلطان مراد' نامی ایک جنگجو گروپ سے رابطہ کرکے استفسار کیا کہ آیا اس نے بچے کو جنگ کےلیے بھرتی کیا ہےتو گروپ نے اس کی تردید کی مگر حال ہی میں اسی گروپ نے انہیں بتایا کہ ان کا بچہ لیبیا میں لڑائی کے دوران مارا گیا ہے۔

خیال رہے کہ شام سے جنگجوئوں کی لیبیا کی منتقلی کا عمل گذشتہ برس اکتوبر میں اس وقت شروع ہوا جب لیبیا کی قومی فوج نے قومی وفاق حکومت کے خلاف طرابلس پر چڑھائی کردی۔ ترکی اب تک قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے شام سے 8 ہزار جنگجو لیبیا بھیج چک ہے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں جنگجو اس وقت زیر تربیت ہیں۔