.

روسی وزیر دفاع کے "پراسرار دورے" سے پوتین اور بشار کے بیچ اختلاف سامنے آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار حکومت کے بعض حامیوں کی جانب سے حلیف ملک روس کو تنقید کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کے اِفشا ہونے کے بعد سامنے آئی ہے جس کے مطابق ماسکو نے بشار الاسد کے انجام کے حوالے سے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ جامع حل میں بشار کے شامل ہونے کی اہلیت ، موجودہ حکومت کی سبک دوشی اور موجودہ عہدے داران اور اپوزیشن کی شمولیت کے ساتھ ایک نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں بھی روس کا موقف پہلے والا نہیں رہا۔

شام کی ایک سرکاری یونیورسٹی جامعہ تشرین میں اکنامکس کے پروفیسر ڈاکٹر احمد اديب احمد کا کہنا ہے کہ روس اپنے "خصوصی ذرائع ابلاغ" کے ذریعے بشار الاسد پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماسکو شامی حکومت "کے ہمنوا حلقوں کو اشتعال دلا رہا ہے"۔ ڈاکٹر احمد کے مطابق ماسکو یہ سب "انٹیلی جنس کی ہدایت" پر کر رہا ہے۔

ڈاکٹر احمد نے ایران پر بھی "جلتی پر تیل چھڑکنے" کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ تہران نے بعض اقدامات روس کو زچ کرنے کے واسطے کیے۔ جمعرات کے روز فیس بک پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے ایران کو دھوکے باز اور موقع سے فائدہ اٹھانے والا قرار دیا۔

شامی بحران کے بنیادی حل کے طور پر بشار حکومت پر روس کی بالواسطہ تنقید اور اس کی سبک دوشی کے حوالے سے ماسکو کا عندیہ گذشتہ ماہ اپریل میں سامنے آیا۔ اس سے قبل بھی بعض اشارے دیکھنے میں آئے۔ رواں سال پانچ مارچ کو ادلب کے علاقے کے حوالے سے پوتین اور ایردوآن کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ یہ علاقہ بشار کی فوج، ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں اور ترکی کے ہمنوا شامی اپوزیشن کے گروپوں کے لیے کارروائیوں کا اسٹیج تھا۔ اس معاہدے میں فیصلہ کیا گیا کہ لڑائی کی تمام کارروائیاں روک دی جائیں اور M4 موٹر وے کے شمال اور جنوب میں محفوظ گزر گاہ قائم کی جائے۔ اس کے بعد شامی اپوزیشن کے چیک پوائنٹس کے نزدیک واقع علاقوں میں روس اور ترکی کے مشترکہ دستوں کا گشت عمل میں آئے۔

پوتین اور ایردوآن کے اس معاہدے کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتین نے اگلے روز 6 مارچ کو شامی ہم منصب بشار الاسد سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ اس موقع پر بشار کو اس معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔

اسی ماہ بیس مارچ کو پوتین نے دوسری بار بشار سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ بات چیت میں روس اور ترکی کے درمیان دستخط کیے گئے معاہدے کے علاوہ سیاسی عمل کو زیر بحث لایا گیا۔

پوتین اور بشار کے درمیان دوسرے ٹیلیفونک رابطے کے بعد روسی وزیر دفاع سرگئی شویگو اچانک دمشق پہنچ گئے۔ انہوں نے 23 مارچ کو بشار الاسد سے ملاقات کی۔ روسی میڈیا میں اس دورے کا مقصد روسی صدر کی ہدایت پر ادلب کے علاقے کے حوالے سے بات چیت بتایا گیا۔ اس کے علاوہ روسی ماہرین کی مدد سے شامی حکومت کی معیشت کو پھر سے کھڑے کرنے کا موضوع بھی دورے کے ایجنڈے میں شامل تھا۔ اس کے مقابل شامی سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ بشار کی شویگو کے ساتھ ملاقات میں شمال مشرقی شام میں تیل کا موضوع زیر بحث آیا۔

روسی میڈیا نے یہ انکشاف بھی کیا کہ شویگو کے دورہ دمشق کا ایک غیر متوقع پہلو بھی ہے۔ یہ پہلو تھا "جنگ کے بعد تصفیہ!" ... یہ بات روسی اخبار "فزغلياد" کے حوالے سے بتائی گئی۔ اخبار نے اس دورے کو نہایت پراسرار قرار دیا تھا۔

بشار الاسد اور شویگو کی ملاقات کے چند ہی روز بعد روسی میڈیا نے بشار پر نکتہ چینی شروع کر دی۔ اس دوران شامی صدر کو ناکام اور بدعنوان قرار دیا گیا۔ بعد ازاں بیس اپریل کو ایران نے منظر نامے میں مداخلت کرتے ہوئے اپنے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو شام بھیج دیا۔ بشار الاسد کے میڈیا کے مطابق اس دورے میں سیاسی عمل کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں آئینی کمیٹی اور آستانا کی کارروائی شامل ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جواد ظریف کے دورے کا مقصد بشار الاسد کو اطمینان دلانا تھا کہ ایران شامی صدر کو تنہا نہں چھوڑے گا۔

بشار الاسد پر روس کی بالواسطہ تنقید کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ یہ بات بھی افشا ہوئی کہ ترکوں اور ایرانیوں کے ساتھ بشار کو رخصت کرنے پر موافقت کا امکان موجود ہے۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک شامی حکومت ک سربراہ پر روسی دباؤ کا مقصد سیاسی عمل میں پیش رفت کے علاوہ بشار الاسد کی جانب سے حقیقی "رعائتیں پیش کرنے" اور نئے آئین پر اتفاق رائے کو یقینی بنانا ہے۔ دوسری جانب شامی حکومت ہر طرح کی ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے تا کہ اقتدار سے ہاتھ دھونے یا اپوزیشن کے حق میں اقتدار کے بڑے حصے سے دست بردار ہونے کا لمحہ سامنے نہ آئے۔