.

شام سے تہران اور بیروت کے درمیان راستے بند، ایران کی توجہ دیہی علاقوں پر مرکوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ایران کے بڑھتے اثرو نفوذ بالخصوص عراق کی سرحد سے ایرانی مداخلت کی روک تھام کے لیے عالمی کوششیں بدستور جاری ہیں۔

دوسری طرف ایرانی ملیشیا علاقے میں فوجی اور لاجسٹک کمک کی متواتر آمد کے ساتھ شام کے دیہی علاقوں میں اپنی پوزیشن اور ٹھکانے مضبوط کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ شام میں ایرانی مداخلت کی روک تھام کا عمل اپنا اثر دکھانا شروع ہوگیا ہے۔

عراق کی سرحد کے قریب واقع شامی علاقوں بوکمال اور جنوب میں دیر الزور تک ایرانی ملیشیائیں خود کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس کی طرف سے شام میں جاری تنازع کے سیاسی حل میں ناکامی کے بعد یہ خدشہ ہے کہ شام کے مختلف علاقوں میں ایرانی نفوذ کم کرنے کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

اس تناظر میں آبزرویٹری نے نشاندہی کی کہ اسرائیل اور بین الاقوامی اتحادی افواج اور روسیوں کے مابین ایک سہ فریقی اتحاد بالواسطہ بات چیت کررہا ہے تاکہ شام کی طرف سے تہران- بیروت زمینی رابطوں کو بند کرنے اور شام کے دیہی علاقوں میں ایران کے اثرو نفوذ کو کم کیا جاسکے۔

حال ہی میں شام کے دیہی علاقے التنف میں ڈیموکریٹک فورسز کے ایک وفد اور "انقلابی کمانڈنگ فورسز" اور "ایلیٹ فورسز" کے رہ نماؤں کے درمیان ایرانی افواج اور ملیشیا کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے پر غور کیا گیا۔ اس اجلاس میں تہران بیروت انٹرنیشنل روڈ کو شام کے اطراف میں بند کرنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد کی حمایت کے ساتھ اور اس کی وفاداری میں آگے بڑھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

شام سے ملنے والی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ "کمانڈوز آف دی انقلاب اور ایلیٹ" فورسز کی پہلی کوشش شہروں سے ہٹ کر نواحی علاقوں میں داعش کی بیخ کنی پرمرکوز ہے مگر ان علاقوں میں ایرانی اثرو نفوذ اور ایران نواز ملیشیائوں کو کم زور کرنا بھی ان کا اہم ہدف ہے۔

شام میں ایرانی نفوذ کو کم کرنے کے لیے بعض دوسرے آپشن بھی زیرغور ہیں۔ وہ یہ کہ جن علاقوں میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائیں سرگرم ہیں ان پر روسی فوج کا کنٹرول قائم کیا جائے اور ایرانی ملیشیائوں کو وہاں سے نکال باہر کیا جائے۔ اس حوالے سے مقامی قبائل کے ساتھ بھی ہم آہنگی پیدا کی جائے۔

اگر روس کو شام میں ایرانی ملیشیائوں والے علاقوں پر فوجی کنٹرول قائم کرنے پر راضی کرنے میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اسد رجیم مخالف تنظیموں جن میں ڈیموکریٹک فورسز بھی شامل ہے کے پاس ایک بڑے زمینی آپریشن کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

دوسری طرف آبزرویٹری نے بتایا ہے کہ دریائے فرات کے کناروں پر امریکی فوج کے گشت اور آمد روفت میں اضافے کے بعد ایرانی ملیشیائوں کی سرگرمیوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کا کہنا ہے کہ وہ شام میں امریکی مداخلت پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھیں گی بلکہ عراق کی سرحد پر واقع علاقے البوکمال اور دیر الزور میں مزید کمک پہنچائی جائے گی تاکہ ان علاقوں پر ایران کا کنٹرول مضبوط رکھا جاسکے۔