.

مصر: کرونا سے متاثرہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے 20 افراد کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں حکام کی جانب سے مسلسل متنبہ کیا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے وزارت صحت کی ہدایات پر سختی سے کاربند رہا جائے۔ تاہم بعض علاقوں میں اب بھی مختلف وجوہات کی بنیاد پر مجمع اکٹھا ہو رہا ہے۔ اس میں با جماعت نماز اور افطار وغیرہ شامل ہے۔

مصر کے صوبے بورسعید کے گورنر عادل الغضبان نے جمعے کی شام انکشاف کیا ہے کہ "مريم القطريہ" مسجد کے امام نے 20 افراد کی امامت کرتے ہوئے نماز پڑھائی جب کہ وہ خود کرونا وائرس سے متاثر تھا۔ اس کے نتیجے میں امام کے پورے گھرانے میں یہ وبائی مرض منتقل ہو گیا۔ اب ہیلتھ ڈائریکٹریٹ کا متعلقہ شعبہ ان افراد کو تلاش کر رہا ہے جنہوں نے مذکورہ شخص کی امامت میں نماز پڑھی تھی۔

یاد رہے کہ جامعہ الازہر نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ مسجدِ الازہر سے تراویح اور تہجد کی نمازوں کو براہ راست نشر کیا جائے گا۔ یہ سلسلہ ماہ رمضان کے اختتام تک جاری رہے گا۔ ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ نماز میں صرف مسجد کے آئمہ اور وہاں کام کرنے والے افراد موجود ہوں گے۔ اس دوران متعدی وائرس سے بچاؤ کے لیے تمام تر مطلوبہ احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر کا پورا خیال رکھا جائے گا۔

الازہر کی جانب سے پہلے ہی یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ لوگوں کو (کرونا وائرس کی) وبا سے بچانے کے لیے نماز جمعہ اور با جماعت نمازوں کا سلسلہ موقوف کرنا جائز ہے۔

مصر میں جمعے کے روز کرونا کے مزید 399 کیسوں اور 21 اموات کا اندراج کیا گیا۔ اس طرح ملک میں کرونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 11228 ہو گئی ہے۔ ان میں اب تک 592 مریض فوت ہو چکے ہیں۔