.

اسرائیلی پارلیمان میں نیتن یاہو اور بینی گینز کے زیرِ قیادت قومی حکومت کی حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی پارلیمان الکنیست میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سیاسی حریف بینی گینز کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت نے اتوار کو حلف اٹھا لیا ہے۔اس طرح صہیونی ریاست میں گذشتہ قریبا ڈیڑھ سال سے جاری سیاسی تعطل کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔

پارلیمان کے ارکان نے کثرت رائے سے تین سال کے لیے مخلوط حکومت کی منظوری دی ہے۔الکنیست کے 73 ارکان نے نئی حکومت کے حق میں ووٹ دیا اور 46 نے اس کی مخالفت کی ہے۔

اسرائیل کی اس نئی مخلوط حکومت کی گذشتہ جمعرات کو حلف برداری ہونا تھی لیکن وزراء کے ناموں پر اختلاف کی وجہ سے اس کو اتوار تک ملتوی کردی گیا تھا۔

اسرائیل میں گذشتہ ایک سال کے دوران میں سیاسی رسا کشی اور تین غیر فیصلہ کن پارلیمانی انتخابات کے بعد وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کی سیاسی حرف بلیو اور وائٹ کے درمیان شراکت اقتدار کا ایک فارمولا طے پایا تھا۔اس کے تحت پہلے 18 ماہ بنیامین نیتن یاہو وزیراعظم رہیں گے اور اس کے بعد بینی گینز وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔

نئی کابینہ میں اسرائیل کے سابق آرمی چیف گابی اشکنازی کو وزیرخارجہ مقرر کیا گیا ہے ۔ان کا تعلق بلیو اور وائٹ پارٹی سے ہے۔ان کی جماعت کے سربراہ بینی گینز وزارت دفاع کا قلم دان سنبھالا ہے۔دوسری اہم وزارتیں لیکوڈ پارٹی کے حصے میں آئی ہیں۔

قومی اتحاد کی کابینہ کی تشکیل کے لیے طے شدہ سمجھوتے کے تحت نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانیوں کے مقدمے کی سماعت جاری رہے گی۔ان کے خلاف اس مقدمے کی 24 مئی سے سماعت شروع ہورہی ہے۔وہ اسرائیل کے پہلے برسراقتدار وزیراعظم ہوں گے جن کے خلاف بدعنوانیوں کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

قومی اتحاد کی حکومت کے لیے طے شدہ سمجھوتا میں امریکا کے کردار کا بھی ذکر موجود ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ اس کی مشاورت ہی سے مستقبل میں (غربِ اردن سے متعلق) کوئی اقدام کیا جائے گا۔

نیتن یاہو نے غربِ اردن میں واقع یہودی آبادکاروں کی بستیوں اور وادیِ اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے لیے یکم جولائی سے کابینہ میں بحث ومباحثہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔تاہم انھوں نے فلسطینی سرزمین کو ہتھیانے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کوئی نظام الاوقات مقرر نہیں کیا ہے۔