.

کرونا وائرس : مصر میں عیدالفطر کے موقع پرمزید سخت پابندیوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے رات کے کرفیو کا دورانیہ بڑھانے اور عید الفطر کے موقع پر مزید سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

مصری وزیراعظم مصطفیٰ مدبولی نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ ’’تمام دکانیں ، مال ، ریستوران ، تفریح گاہیں ،بیچز اور پبلک پارک 24 سے 29 مئی تک چھے روز کے لیے بند رہیں گے۔''

انھوں نے قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ عید کی چھٹیوں کے دوران میں پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی اور ان ایام میں ملک بھر میں کرفیو کا شام پانچ بجے سے آغاز ہوا کرے گا۔

وزیراعظم مدبولی نے کہا کہ عید الفطر کا ہفتہ گزرنے کے بعد ان پابندیوں میں نرمی کی جائے گی اور 30 مئی سے کرفیو کا رات آٹھ سے آغاز ہوا کرے گا۔

انھوں نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’انھیں عوامی ، کھلی اور پُرہجوم جگہوں پر چہرے پر ماسک پہننا ہوں گے۔اگر کوئی اس پابندی کی خلاف کا مرتکب پایا گیا تو وہ مستوجب سزا ہوگا۔‘‘ لیکن انھوں نے اس سزا کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

مصر میں اس وقت رمضان میں رات نو بجے سے صبح چھے بجے تک کرفیو نافذ ہوتا ہے۔مصری حکومت نے مارچ کے آخر میں ملک بھر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے باجماعت نمازوں کے اجتماعات پر پابندی عاید کردی تھی اور اندرون اور بیرون ملک پروازیں بھی معطل کردی تھیں۔

مصر کی وزارت صحت نے اب تک کرونا وائرس کے 11719 کیسوں کی تصدیق کی ہے۔ان میں 612 وفات پا چکے ہیں۔

دریں اثناء مصر کی قدیم دینی دانش گاہ الازہر نے آج ہی عبادت گزاروں پر زوردیا ہے کہ وہ عید الفطر کی نمازیں گھروں ہی میں ادا کریں۔

مصر نے مئی کے اوائل سے بعض معطل شدہ سرکاری خدمات کو بتدریج بحال کرنا شروع کردیا ہے۔وزیراعظم مدبولی کا کہنا ہے کہ حکومت وسط جون سے کھیلوں سمیت بعض سرگرمیوں پر عاید پابندیوں میں حفاظتی احتیاطی تدابیر کے ساتھ نرمی کا اعلان کرے گی اور ریستورانوں کو بھی کھولنےکی اجازت دے دے گی۔

مصر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مارچ میں ریستوران بند کردیے گئے تھے اور انھیں صرف دوسری جگہوں پر آرڈر پر کھانے پہنچانے کی اجازت ہے یا وہاں سے خریدار کھانا لے جاسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مصری حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مارچ میں تمام مساجد اور گرجا گھروں کو عبادت گزاروں کے لیے بند رکھنے کا حکم دیا تھا۔تاہم مساجد سے لاؤڈ اسپیکروں( صوت المکبر) کے ذریعے پنج وقت نمازوں کی اذان دینے کی اجازت ہے۔ جامعہ الازہر نے بھی قاہرہ کے قدیم حصے میں واقع اپنی تاریخی جامع مسجد کوبند کردیا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ’’یہ اقدام عبادت گزاروں کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے اور کرونا وائرس کی وبا کے خاتمے تک مسجد بند رہے گی۔‘‘