.

ایران میں عسکری لیڈروں پر مشتمل 'قاسم سلیمانی ایوارڈ کونسل' کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے سپریم انقلابی ثقافتی کونسل کی تجویز پر 19 رکنی عالمی قاسم سلیمانی پرائز کونسل کی منظوری دے دی ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے 'ارنا' کے مطابق قاسم سلیمانی پرائز کونسل میں ایران اور بیرون ملک سے 19 شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں دیگ شعبوں سے وابستہ شخصیات کے ساتھ ساتھ عسکری گرپوں کے لیڈر بھی شامل ہیں۔
قاسم سلیمانی پرائز کونسل کے قیام کا مقصد مزاحمت اور بیداری کےمیدان میں خدمات انجام دینے والوں کے لیے انعامات کا اعلان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کے خدمات کا اعتراف ہے۔ خیال رہے کہ 'مزاحمت اور بیداری' جیسی اصطلاحات ایران میں ان عناصر کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جو خطے میں ایران کے لیے پراکسی وار لڑتےہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے 'ارنا' کے مطابق 19 رکنی کونسل میں وزیرخارجہ، ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژ کارپوریشن کے چیئرمین، لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے مندوبین، فلسطینی تنظیموں حماس اور اسلامی جہاد اور یمن کے حوثی باغیوں کو شامل کیا جائے گا۔

ایران کی سپریم ثقافتی انقلابی کونسل کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں‌کہا گیا ہے کہ قاسم سلیمانی پرائز بورڈ کےقیام کا مقصد مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنا،انسانی اور اسلامی اقدار کو زندہ کرنے کے ساتھ خطے اور عالمی سطح پر مغرور ریاستوں کے خلاف مزاحمت کا بلند کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

قاسم سلیمانی پرائز کونسل کے زیراہتمام دو سال میں ایک بار عالمی ایوارڈز کااعلان کیا جائے گا۔ اس ضمن میں عوام اور سماج، فنون وثقافت، پالیسی،تعلیم وتحقیق، اطلاعات اور کھیلوں کے شعبوں میں انعامات دیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے خطرناک کمانڈر کمانڈر قاسم سلیمانی کو 3 جنوری کو امریکا نے ایک فضائی آپریشن میں بغداد کے ہوائی اڈے پر ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعے نے امرکا اور ایران کو جنگ کے دھانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ قاسم سلیمانی ایرانی پاسداران انقلاب کی سمندر پار عسکری کارروائیوں‌ کی ذمہ داری فیلق القدس کے سربراہ تھے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق چیف محمد علی جعفری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ گذشتہ دو عشروں کے دوران ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے میں قاسم سلیمانی نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔