.

بحر احمر مِلز میں بھوک کے مارے یمنیوں کا گندم حوثیوں کے نشانے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی حوثی ملیشیا نے پیر کے روز الحدیدہ شہر میں بحر احمر ملز کو ایک بار پھر بم باری کا نشانہ بنایا ہے۔ ملز کے گوداموں میں عالمی خوراک پروگرام کے زیر انتظام ہزاروں ٹن گندم موجود ہے۔

مشترکہ فورسز کے میڈیا ونگ نے زمینی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے بحر احمر ملز اور ان کے گوداموں پر ٹینک کا گولہ داغا۔ اس کے نتیجے میں عمارت کے کچھ حصوں اور ملز کو مادی نقصان پہنچا۔

یمن کی آئینی حکومت نے حوثی ملیشیا کی جانب سے الحدیدہ شہر میں بحر احمر ملز کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ایک بیان میں کہا کہ حوثی ملیشیا نے الحدیدہ شہر میں لوگوں کے گھروں کے درمیان تعینات ٹینک کے ذریعے بحر احمر ملز کو گولے کا نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی بھی حوثیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے سلسلے کی کڑی ہے۔

الاریانی نے مزید بتایا کہ "بحر احمر ملز کے اندر ذخیرہ کیا جانے والا گندم تین صوبوں صنعاء، الحدیدہ اور اِب کی تین ماہ کی ضروریات کے لیے کافی ہے۔ حکومت نے اس گندم کو لاکھوں شہریوں میں تقسیم کے لیے مطلوبہ پرمٹ جاری کر دیے تھے۔ تاہم حوثی ملیشیا نے اس گندم کو گزرنے نہیں دیا اور پھر سے ان ملز کو نشانہ بنانا شروع کر دیا"۔

یمنی وزیر اطلاعات نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس اور الحدیدہ میں جنرل ابھجیت گوہا کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے نگراں مشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس دہشت گرد حملے کے علاوہ حوثیوں کی جانب سے فائر بندی اور اسٹاک ہوم معاہدے کی تمام خلاف ورزیوں کی مذمت کریں۔ ساتھ ہی نئے اقدامات کیے جائیں تا کہ 51 ہزار ٹن اس گندم کو ضرورت مندوں تک پہنچانے کو یقینی بنایا جا سکے۔

حوثی ملیشیا کئی مرتبہ بحر احمر کی ملز کو براہ راست گولہ باری کا نشانہ بنا چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ملز کے دو گودام جل کر تباہ ہو گئے اور ان میں موجود گندم برباد ہو گئی۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی ٹیم کو بھی ایک سے زیادہ مرتبہ مذکورہ ملز تک پہنچنے سے روکا گیا۔