.

سرحد پر افغانوں کے ڈوبنے کی کہانی امریکی فتنہ ہے : ایرانی پولیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکام کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ وہ دو ہفتے قبل سرحد پر درجنوں افغانوں کے ڈوب جانے کے حادثے کی تحقیقات کریں گے۔ تاہم اب ایرانی پولیس کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ یہ واقعہ محض "امریکا کی جانب سے گھڑی گئی ایک کہانی ہے" .. اور اس کا مقصد ایران اور افغانستان کے درمیان فتنہ کھڑا کرنا ہے۔

یہ موقف ایرانی پولیس کے نائب سربراہ قاسم رضائی کی زبانی سامنے آیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق رضائی نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں ماہ کے اوائل میں ایرانی سرحد پر افغان مہاجرین کے ڈوب جانے کا واقعہ امریکیوں اور ایران سے باہر فارسی زبان کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے کھڑا کیا گیا "فتنہ" ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایسی بات ہے جس کا یقین نہیں کیا جا سکتا ،،، اس کو کوسٹ گارڈز سے منسوب بھی نہیں کیا جا سکتا ،،، یہ قطعا درست نہیں"۔

رضائی کے مطابق اس معاملے کے سر اٹھانے کے فوری بعد انہوں نے کوسٹ گارڈز کے کمانڈر سے رابطہ کیا۔ رضائی نے کہا کہ "جب دو ملکوں کے بیچ نہایت قریبی نوعیت کا تعاون اور تعلقات ہوں تو پھر دہشت پھیلانے کے لیے معاند اور غیر ملکی میڈیا اس طرح کے فتنے بھڑکاتا ہے۔ افغانستان کے عوام معاند میڈیا کی جانب سے اس غیر اخلاقی حرکت کا جواب دیں گے"۔

اس سے ایک روز قبل افغانستان کی ایک خاتون رکن پارلیمنت مریم سماء نے افغان مزدوروں کی ہلاکت کے تناظر میں ایران کوکڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا۔ افغان پارلیمنٹ میں بین الاقوامی امور کی کمیٹی کی رکن نے ایرانی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس کی فورسز نے مئی کے اوائل میں 50 افغان مزدوروں کو دریائے ہریرود عبور کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے نتیجے میں 18 مزدور ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

اتوار کی شام ایرانی اصلاح پسند ویب سائٹ "سحام نيوز" پر جاری وڈیو میں مریم کا کہنا تھا کہ "جب ایرانی حکومت اپنے عوام کے احتجاج کے جواب میں فائر کھول دیتی ہے تو ہم کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے عوام کے حوالے سے افسوس کے جذبات محسوس کرے؟" ..

یاد رہے کہ افغان وزارت خارجہ نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ افغانستان اور ایران کے وزراء خارجہ ایران کے ساتھ سرحد پر درجنوں مہاجرین کے ڈوب کر ہلاک ہو جانے کی مشترکہ تحقیقات پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹوں میں کہا گیا کہ ایرانی کوسٹ گارڈز کے عناصر نے مذکورہ افغانوں کو زدوکوب کیا اور پھر انہیں دریائے ہریرود میں چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیا۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی "اِرنا" نے بتایا کہ وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک ایرانی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا وعدہ کیا جو مذکورہ واقعے کی تحقیقات میں افغان حکام کے ساتھ تعاون کرے گی۔

اس سے قبل افغان صدر اشرف غنی نے واقعے کی جامع تحقیقات کرانے کی ہدایات جاری کیں۔

یہ پیش رفت ایرانی مقامی حکام کی جانب سے افغان مہاجرین کی 18 لاشیں نکالے جانے کے العان کے بعد سامنے آئی۔ بعض لاشوں پر تشدد کے نشانات بھی تھے۔