.

"خامنہ ای اپنی حدود میں رہیں" ... عراقیوں کا ایرانی رہبر اعلی کے لیے غم و غصّہ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں کی جانب سے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ وہ عراق میں اپنی مداخلت روک دیں۔ یہ مطالبہ خامنہ ای کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے متعلق اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ اعلان میں ایرانی رہبر اعلی کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل ،،، عراق اور شام میں شکست سے دوچار ہوں گے اور "ممانعت کا محور" کامیاب و کامران ہو گا۔ محور سے خامنہ ای کا اشارہ تہران نواز گروپوں اور ملیشیاؤں کی طرف تھا۔

سوشل میڈیا پر عراقی سرگرم کارکنان نے #الزم_حدودك_خامنائي (خامنہ ای اپنی حدود میں رہیں) کا ٹرینڈ چلایا ہوا ہے۔ اس ضمن میں گذشتہ برس اکتوبر سے شروع ہونے والے عوامی مظاہروں کا ذکر کیا گیا جن میں ملک میں بیرونی مداخلت روک دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان میں ایرانی مداخلت سرفہرست ہے۔

بعض عراقیوں نے اُن وڈیوز کو دوبارہ سے شیئر کیا جن میں عراقی شہروں میں احتجاج کے دوران ایرانی پرچم اور ایرانی قونصل خانے کو نذر آتش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس مہم میں میڈیا کے افراد اور صحافی بھی شریک ہیں۔ انہوں نے ولایت فقیہ کے وفادار بعض گروپوں کے ذریعے عراق میں ایرانی مداخلت پر کڑی تنقید کی ہے۔

بعض افراد نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ بغداد میں لٹکائی گئی تھی۔ تصویر میں خمینی اور خامنہ ای کے علاوہ القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے سابق نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کے شہرے نظر آ رہے ہیں۔ سلیمانی اور المہندس جنوری میں بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکی فضائی حملے میں ہلاک کر دیے گئے تھے۔

ایک عراقی صحافی نے مذکورہ تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "آج کا بغداد اور خمینی اور خامنہ ای کی تصاویر ... میں ایران کے خلاف جنگ میں شریک عراقی فوجیوں اور اُن قیدیوں کا تصور کر رہا ہوں جن کو بد ترین سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ آج وہ دارالحکومت کے قلب میں اس دیوار کے پاس سے گزریں گے تو ان کے دلوں پر کیا گزرے گی .. وہ ہی دارالحکومت جس کے لیے انہوں نے اپنی سب سے قیمتی چیز کی قربانی دی تا کہ اس کا عربی اور دیگر مقامی زبانوں کا تشخص برقرار رہے نہ کہ فارسی کا "!

یاد رہے کہ بغداد اور دیگر جنوبی صوبوں میں مظاہروں کے آغاز کے بعد سے نوجوانوں نے اپنے احتجاج میں مطالبہ کیا تھا کہ ملک میں ایرانی مداخلت کا سلسلہ روک دیا جائے۔ مظاہرین نے دانستہ طور پر خامنہ ای کی تصاویر اور ایرانی پرچم کو ایک سے زیادہ مرتبہ نذر آتش کیا۔ یہ عمل ملک میں بیرونی مداخلتوں پر ان کے غم و غصے کا ثبوت ہے۔

ایران کا عراق کی سیاست پر گہرا اثر و رسوخ ہے۔ اس مقصد کے لیے تہران بعض گروپوں کو استعمال کر رہا ہے جن کو مقامی طور پر ایران کا ہمنوا قرار دیا جاتا ہے۔ بعض عوامی حلقتے ان گروپوں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ بغداد پر ایران کے مفاد کو مقدم رکھتے ہیں۔