.

فلسطینی صدر نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدوں کو کالعدم قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) نے اسرائیل کے ساتھ دستخط کیے گئے معاہدوں کو منسوخ کر دیا ہے۔

منگل کی شام فلسطینی قیادت کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس نے کہا کہ پی ایل او اور فلسطینی ریاست اب امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کے ساتھ طے پائے گئے کسی بھی معاہدے کی پابند نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "قابض حکومت کی جانب سے فلسطینی اراضی کے حصوں کو ضم کیے جانے سے اوسلو معاہدہ منسوخ ہو چکا ہے۔ اب فلسطینی ریاست کی اراضی پر اسرائیلی حکام بطور قابض طاقت تمام تر نتائج کے ذمے دار ہیں"۔

عباس کے مطابق فلسطینی ریاست کو بین الاقوامی تنظیموں اور سمجھوتوں میں شامل کرنے کے لیے درخواستوں پر دستخط کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

فلسطینی صدر نے اس جانب توجہ دلائی کہ فلسطینی ریاست بین الاقوامی قانونی قرار دادوں اور متعلقہ عرب اور اسلامی فیصلوں کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینی اسرائیلی تنازع حل کرنے کے اصولی موقف پر قائم ہیں۔

محمود عباس نے امریکی امن منصوبے کو مسترد کر دینے والے عالمی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امن ، بین الاقوامی قانون اور اس کی حیثیت کو بچانے کے لیے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کریں۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی میں امن کے لیے اپنے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کا ویژن فریقین کو دو ریاستی حل کے ضمن میں ایک موقع فراہم کرتا ہے۔