.

قطر نے ترکی کے ساتھ کرنسی تبادلے کا حجم 15 ارب ڈالر تک بڑھا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے مرکزی بینک نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ قطر کے ساتھ کرنسی کے تبادلے کے معاہدے کا حجم تین گُنا بڑھا کر 5 ارب ڈالر سے 15 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے۔

انقرہ میں مرکزی بینک نے بدھ کے روز جاری بیان میں واضح کیا ہے کہ اس معاہدے میں ترمیم کا مقصد مقامی کرنسی میں دو طرفہ تجارت کو آسان بنانا اور دونوں ملکوں میں مالیاتی استحکام کو سپورٹ فراہم کرنا ہے۔

رواں ماہ کے دوران ترکی کی کرنسی کو غیر معمولی حد تک نچلی سطح پر دیکھا گیا۔ اس دوران سرمایہ کاروں میں مرکزی بینک کے پاس غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کے حوالے سے اندیشے پھیل گئے۔ اس کے نتیجے میں متعلقہ ذمے داران نے بیرونی فنڈنگ کی تدابیر کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ ترکی کی وزارت خزانہ اور مرکزی بینک کے ذمے داران نے قطر اور چین میں اپنے ہم منصبوں کے کرنسی کے تبادلے کے موجودہ حجم کو بڑھانے کے حوالے سے کھل کر بات چیت کی۔ انہوں نے برطانیہ اور جاپان میں بھی اسی نوعیت کی سہولت کاری کے امکانات پر مذاکرات کیے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ترکی درجنوں ارب ڈالر کی فنڈنگ کے لیے تدابیر اختیار کرنے سے قاصر رہا تو اس کی کرنسی زمین بوس ہو جائے گی۔ اسی طرح جیسے 2018 میں ہوا تھا جب ترک لیرہ نے مختصر مدت کے لیے اپنی آدھی قیمت کھو دی تھی۔

تازہ ترین سہولت کاری کے تحت مبادلہ ترک لیرہ اور قطری ریال میں ہو گا۔