.

سعودی شہری نے بیماربیٹی کے علاج کے لیے سفر کی اجازت مانگی، حکومت نے طیارہ پیش کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوبی علاقے عسیرمیں اپنی بیمار بیٹی کے علاج اور اسے الریاض تک سفر کی اجازت کے حصول کے لیے پریشان شہری کو وزارت صحت کی طرف سے ایسی سہولت فراہم کی گئی جس پر شہری ششدر رہ گیا۔ اسے یقین نہیں تھا کہ عسیر سے الریاض کے سفر میں حکومت اسے خصوصی طیارہ فراہم کر سکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب میں کرونا کی وبا کی وجہ سے وزارت صحت اس وقت سب سے مصروف ترین محکمہ ہے مگر عسیر سے تعلق رکھنے والے شہری حسن الخبرانی کو حکومت کی طرف سے دی گئی سہولت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تمام تر بحرانوں میں شہریوں کی سہولیات حکومت کے لیے ہرچیز پرمقدم ہیں۔

حسن الخبرانی نے بتایا کہ اس نے وزارت صحت کے حکام سے رابطہ کیا اور اپنی 12 سالہ بیٹی کے الریاض میں علاج کے لیے سفر کی اجازت مانگی۔ الخبرانی نے حکام کو بتایا کہ عسیر سے الریاض تک سفر طویل اور مشکلات سے بھرپور ہے مگر اسے کرونا کی پابندیوں میں سفر کی اجازت درکار ہے۔ اس پر حکومت کی طرف سے الخبرانی کو اپنی بیٹی کو عسیر سے الریاض میں اسپتال پہنچانے کے لیے خصوصی طیارہ فراہم کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الخبرانی نے کہا کہ مشکل وقت میں حکومت نے میرے ساتھ جو حسن سلوک کیا ہے وہ مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔ میں وزارت صحت کے اس احسان کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔

حسن الخبرانی کا کہنا تھا کہ اس کی بارہ سالہ بچے کو دماغی عارضہ لاحق تھا اور وہ دو ماہ سے علاج کے لیے بچی کو الریاض لے جانا چاہتا تھا۔ بچی کی سرجری ناگزیر تھی۔ آخر کار نے وزارت صحت کے حکام سے بیٹی کے علاج کے لیے سفر کی اجازت مانگی تو حکومت کی طرف سے نہ صرف اسے سفر کی اجازت دی بلکہ بچی کو سیکڑوں میل دور لے جانے کے لیے خصوصی طیارہ فراہم کردیا۔ اس نے مجبوری کے عالم میں حکومت کی طرف سے سفر کے لیے خصوصی طیارہ فراہم کرنے پر وزارت صحت کا شکریہ ادا کیا۔ اس نے کہا کہ یہ سب خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر صحت توفیق الربیعہ کی عوام دوست کاوشوں کا نتیجہ ہے۔