.

شام کے پاس ہماری قوم کا پیسہ ہے، اسے واپس لانا ضروری ہے:ایرانی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی وخارجہ امور کمیٹی کے رکن اور سینیئر سیاست دان حشمت اللہ فلاحت بیشہ نے کہا ہے کہ شام کے پاس ایران کے20 سے 30 ارب ڈالر موجود ہیں اور اس رقم کو واپس لانا ہوگا۔

ایران کےفارسی اخبار "اعتماد" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسٹر فلاحت بیشہ کا کہنا تھا کہ ہم نے شام کو بیس سے تیس ارب ڈالر کی رقم دے رکھی ہے اور یہ رقم واپس کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ شام کو دی گئی رقم ایرانی قوم کی ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2012ء کے بعد ایران نے شام میں جاری خانہ جنگی کچلنے میں صدر بشارالاسد کی مدد کے لیے تمام وسائل جھونک دیے تھے۔ ایران نےاسد رجیم کے خلاف جاری بغاوت کو فرو کرنے کے لیے دمشق کی عسکری، مادی، معنوی اور لاجسٹک شعبوں میں بھرپور مدد کی۔

برطانیہ کے اسٹریٹیجک انسٹیٹیوٹ آف اسٹڈیز کی سنہ 2019ء کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنا اثرو نفوذ بڑھانے کے لیے شام، عراق اور یمن میں کم سے کم 16 ارب ڈالرخرچ کیے ہیں۔

ایران وائر ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے شام میں اپنا اثرو نفوذ بڑھانے کے لیے سب سے زیادہ تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی مدد میں امداد فراہم کی۔ اس کےعلاوہ تہران دمشق سرکار کو غذائی اور طبی شعبے میں بھی مدد فراہم کررہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ تہران شام میں سالانہ اڑھائی ارب ڈالر کی رقم صرف کررہاہے۔ معاشی امور کے تجزیہ نگار سمیر الطویل نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ایرانی حکومت شام میں اپنےاثرو نفوذ کے فروغ کے لیے 80 ارب ڈالر کی رقم پھونک چکی ہے۔