کرونا وائرس کے سائے میں مسجد حرام میں ختم قرآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گزشتہ برس تک کافی عرصے سے یہ معمول تھا کہ رمضان مبارک میں مسجد حرام کے اندر ختم قرآن کی رات بیس لاکھ سے زیادہ نمازی صفوں میں موجود ہوتے تھے۔ اس روز لوگ سویرے سے ہی حرم مکی کا رخ کر لیا کرتے تھے۔ اس طرح کی مبارک شب میں حرم شریف کی راہ داریاں ، بالائی منزلیں اور چھت نمازیوں سے کھچا کھچ بھر جاتی تھی۔ یہ لوگ ختم قرآن کے موقع پر نماز عشاء اور تراویح کی ادائیگی میں شریک ہوتے تھے۔

masjid al-haram

تاہم اس مرتبہ مسجد حرام میں ختم قرآن کی شب گذشتہ برسوں سے مختلف تھی۔ کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے سبب احتیاطی اقدامات اور حفاظتی اقدام کی نیت سے نمازیوں کی تعداد کو نہایت کم کر دینے کے بیچ ختم قرآن کے موقع پر معمول سے یکسر مختلف منظر دکھائی دیا۔

masjid al-haram

یاد رہے کہ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے ماہ رمضان کے دوران کئی احتیاطی اقدامات کیے۔ اسی طرح پریذیڈنسی نے سیکورٹی اور صحت کے شعبے سے متعلق اداروں کے تعاون سے حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا۔ اس کا مقصد حرمین شریفین میں نمازیوں کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

masjid al-haram

اس سے قبل مسجد حرام کے دروازوں اور داخلی راستوں پر تھرمل کیمرے نصب کیے گئے۔ یہ کیمرے خود کار طریقے سے انسانوں کے درجہ حرارت کی جانچ کرتے ہیں۔ نصب شدہ تھرمل کیمرے چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں اور ان کی نگرانی وزارت صحت کی جانب سے مقرر کردہ ماہر طبی اہل کار انجام دیتے ہیں۔

masjid al-haram

مقبول خبریں اہم خبریں