.

ٹویٹر صارفین نے جواد ظریف کی مبالغہ آرائی کی کوشش کو ناکام بنا دیا

ایرانی وزیر خارجہ نے تصویر کا ایک حصہ نکال کر امریکا اور مغرب پر تنقید کرنے کی کوشش کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ کو ٹویٹر پر پوسٹ کی جانب والی ایک تصویر پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جواد ظریف نے اپنے ٹویٹر پروفائل پر مسجد اقصیٰ کی ایک تصویر لگائی جس میں فلسطین میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا گیا مگر انہوں نے اس تصویر کے نچلے حصے کو کاٹ دیا جس میں قاسم سلیمانی، حزب اللہ کے جنگجوئوں اور ہتھیاروں کو دکھایا گیا تھا۔

جواد ظریف نے اپنی ٹویٹ پر لکھا "یہ امر انتہائی قابل نفرت ہے کہ وہ تہذیب جس کو گیس چیمبرز میں "آخری حل" کا سامنا تھا وہ ریفرینڈم کا مطالبہ کرنے والوں پر حملہ کر رہی ہے۔ امریکا اور مغرب جمہوریت سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ فلسطینیوں کو تمہارے جرائم یا ندامت کی قیمت نہیں چکانی چاہئیے ہے۔"

یہ نام نہاد "آخری حل" کا منصوبہ ہٹلر کی جانب سے یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا منصوبہ تھا جس کے تحت یورپ کے تمام یہودیوں کو گیس چیمبرز میں ڈال کر مار دینے کا ارادہ تھا۔

اس ٹویٹ کے جواب میں کچھ ٹویٹر صارفین نے ایران کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی ویب سائٹ پر شائع کردہ اس تصویر کے مکمل حصے کو لگایا۔ اس مکمل حصے میں جواد ظریف کی جانب سے کاٹے جانے والے حزب اللہ کے جنگجوئوں اور مسجد اقصیٰ پر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کے سربراہ ابو مہدی المہندس کی تصویر لگی دیکھی جاسکتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے تصویر کا جو حصہ چھپایا گیا ہے اس میں خامنہ ای کی جانب سے فلسطینیوں، عرب اور یہودیوں کے مقدر کا فیصلہ ریفرینڈم کے ذریعے کرنے کی تجویز کی نفی ہوتی ہے۔