.

داعشی کمانڈر کے اردنی ہواباز کے زندہ جلائے جانے سےمتعلق نئے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی انٹیلی جنس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے داعش کے نئے سربراہ اور مقتول ابو بکر البغدادی کے جانشین طہ عبدالرحیم عبداللہ بکر الغسانی المعروف عبدالناصر قرداش نے اردنی پائلٹ کی گرفتاری اور اسے زندہ جلائے جانے سے متعلق مزید انکشافات کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ خصوصی بات چیت میں زیرحراست داعشی کمانڈر عبدالناصر قرداش نے کہا کہ داعش اردنی پائلٹ کو قیدیوں کے تبادلے میں رہا کرنے پرغور کیا تھا۔ اس کے علاوہ اردن کے ساتھ پائلٹ کی رہائی کے بدلے میں تاوان وصول کرنے کا بھی پلان بنایا گیا تاہم داعشی تنظیم میں شامل بعض سخت عناصر نے ابو بکر البغدادی کو اردنی ہواباز معاذ الکساسبہ کو قتل کرنے پر رضا مند کرلیا۔ داعشی کمانڈروں کی طرف سے البغدادی کو کہا تھا کہ اردنی پائلٹ کی سزا سے جنگجوئوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں گرفتار داعشی سربراہ نے کہا کہ تنظیم کی جانب سے اردنی پائلٹ کے معاملے کے حوالے کے معاملے پرغوراور اردن کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی مگر داعشی کمانڈر ابو محمد فرقان اور دوسرے کمانڈروں نے کہا کہ جنگجوئوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے اردنی پائلٹ کو زندہ چھوڑںے کے بجائے اسے قتل کرنا زیادہ بہتر ہے۔

موجودہ حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے قرداش نے کہا کہ موجودہ حالات میں داعش کے لیے نئے جنگجوئوں کی بھرتی ممکن نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں