.

عراق میں ایران نوازملیشیاؤں کی سعودی عرب میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی ایران نواز دو ملیشیاؤں نے سعودی عرب میں دہشت گردی کے حملوں کی دھمکی دی ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کتائب حزب اللہ اور النجباء تحریک نے ہفتے کے روز الگ الگ بیانات جاری کیے ہیں۔ان میں سعودی عرب میں ’’ جہادی کارروائیوں‘‘ پر زور دیا گیا ہے۔ یہ دونوں مسلح تنظیمیں شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی میں شامل ہیں۔

کتائب حزب اللہ کے ترجمان ابو العلی العسکری نے ایک ٹیلی گرام پیغام میں کہا ہے:’’ جب تک تمام جہادی کارروائیوں کو سعودی عرب میں منتقل نہیں کردیاجاتا ہے، اس وقت تک تم مکروفریب کے جالوں سے بچ نہیں سکو گے‘‘۔

کتائب حزب اللہ کو امریکا نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔اس پر ستمبر 2019ء میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ ترجمان نے ان حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس امر کا ثبوت ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں جنگ کو سعودی عرب میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس تنظیم کے جنگجوؤں نے حال ہی میں عراق میں امریکی فورسز کے ساتھ خونریز جھڑپیں بھی کی تھیں۔اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے عراق میں اپنے فوجی کمانڈروں کو اس تنظیم کے خلاف کارروائی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔

عراق کی ایک اور شیعہ ملیشیا النجباء تحریک کے ترجمان نصرالشامری نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ سال سعودی عرب سے ایک ہزار سے زیادہ جنگجو عراق میں داخل ہوئے تھے اور وہ عراقیوں کی ہلاکتوں اور ان کے مکانوں کی تباہی کے ذمے دار ہیں۔

اس ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’اسی وجہ سے ہم خون کی بہنے والی ہر بوند کا بدلہ لیں گے۔‘‘یہ تنظیم عراق میں النجباء کے نام سے ایک ٹی وی اسٹیشن بھی چلاتی ہے۔امریکا نے 2019ء میں اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

ان دونوں شیعہ ملیشیاؤں کے ترجمانوں نے عراق کے نائب وزیراعظم علی علوی کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر جاری کیے ہیں۔ علی علوی اور ان کے وفد نے سعودی عرب کے متعدد وزراء سے ملاقاتیں کی تھیں اور ان سے تیل اورمعیشت کے شعبوں سمیت دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے عراق کے نائب وزیراعظم کے دورے کے بعد ٹویٹر پر ایک پیغام جاری کیا ہے اور اس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کی حمایت کی ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عراق عرب ستون کی جانب لوٹ آئے گا اور اس کے عوام اپنے عرب ہمسایوں کے ساتھ امن اور بھائی چارگی سے رہیں گے۔

سعودی عرب نے اپنے سفیر کو واپس بغداد بھیجنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں