طرابلس کا معرکہ : دارالحکومت کے جنوب میں لیبیا کی فوج کی پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے پیر کی شام دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں غریان کے نزدیک الہیرہ کے علاقے میں وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ بات "العربیہ/الحدث" نیوز چینلوں کے نمائندے نے بتائی۔

یہ پیش قدمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لیبیا کی فوج طرابلس کے جنوب میں وفاق حکومت کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر بڑا حملہ کر رہی ہے۔ اس دوران علاقے میں ترکی کا ایک ڈرون طیارہ مار گرائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

لیبیا کی فوج کے ترجمان احمد المسماری کے مطابق ترہونہ میں وفاق کی ملیشیاؤں کی کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی اور وہ قومی فوج کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔

اس سے قبل المسماری نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ لیبیا کی فوج نے محمد الرويضانی عُرف ابو بکر الرویضانی کو گرفتار کر لیا ہے۔ الرویضانی کو شام سے لیبیا منتقل کیے جانے خطر ناک ترین داعشی عناصر میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

لیبیا کی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی کہ شام سے تعلق رکھنے والا داعشی ابو بكر الرويضانی کو پکڑا گیا تو وہ وفاق حکومت کی تشکیلوں کے ساتھ مل کر لڑائی میں شریک تھا۔ المسماری نے مزید بتایا کہ "ترکی کی انٹیلی جنس نے الرویضانی کو فیلق الشام کے ذمے دار کے طور پر لیبیا منتقل کیا"۔

ترجمان کے مطابق آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر حیران کن امور سامنے آئیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "آئندہ مرحلے میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے تباہ کر دیے جائیں گے اور طرابلس کے حوالے سے ایردوآن کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں