.

طرابلس کا معرکہ : دارالحکومت کے جنوب میں لیبیا کی فوج کی پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے پیر کی شام دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں غریان کے نزدیک الہیرہ کے علاقے میں وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ بات "العربیہ/الحدث" نیوز چینلوں کے نمائندے نے بتائی۔

یہ پیش قدمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لیبیا کی فوج طرابلس کے جنوب میں وفاق حکومت کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر بڑا حملہ کر رہی ہے۔ اس دوران علاقے میں ترکی کا ایک ڈرون طیارہ مار گرائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

لیبیا کی فوج کے ترجمان احمد المسماری کے مطابق ترہونہ میں وفاق کی ملیشیاؤں کی کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی اور وہ قومی فوج کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔

اس سے قبل المسماری نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ لیبیا کی فوج نے محمد الرويضانی عُرف ابو بکر الرویضانی کو گرفتار کر لیا ہے۔ الرویضانی کو شام سے لیبیا منتقل کیے جانے خطر ناک ترین داعشی عناصر میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

لیبیا کی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی کہ شام سے تعلق رکھنے والا داعشی ابو بكر الرويضانی کو پکڑا گیا تو وہ وفاق حکومت کی تشکیلوں کے ساتھ مل کر لڑائی میں شریک تھا۔ المسماری نے مزید بتایا کہ "ترکی کی انٹیلی جنس نے الرویضانی کو فیلق الشام کے ذمے دار کے طور پر لیبیا منتقل کیا"۔

ترجمان کے مطابق آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر حیران کن امور سامنے آئیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "آئندہ مرحلے میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے تباہ کر دیے جائیں گے اور طرابلس کے حوالے سے ایردوآن کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے"۔