.

کرونا پابندیوں میں نرمی، فلسطین میں تاریخی چرچ کو عبادت کے لیے کھول دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں قائم عیسائیوں کے تاریخی گرجا گھر "چرچ آف دی نیٹی ویٹی" کو عبادت کے لیے کھول دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطینی حکام نے مغربی کنارے کے علاقوں میں کرونا وبا کے اثرات کم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ عبادت گاہوں کو بہ تدریج اور احتیاطی تدابیر کے تحت کھولنے کا فیصل کیا گیا ہے۔

بیت لحم میں واقع تاریخی گرجا گھر چرچ آف دی نیٹی ویٹی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش کے حوالے سے شہرت حاصل ہے۔ حکومت کی طرف سے چرچ میں 50 سے کم افراد عبادت کے جمع ہوسکتے ہیں مگر اس کے لیے شرط ہے کہ ان میں سے کسی کو بخار یا کرونا سے ملتی جلتی کوئی دوسری علامت نہ ہو اور وہ چہروں کو حفاظتی ماسک سےڈھانپ کر رکھیں۔

اس چرچ کو پانچ مارچ کو کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد بند کردیا گیا تھا جس کے نتیجے میں فلسطینی سیاحت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

فلسطینی وزیر سیاحت روولا معایہ نے "رائیٹرز" کو بتایا مسیح کی پیدائش نے 2000 سال سے بھی زیادہ عرصہ سے لوگوں کے دلوں میں امید پیدا کی آج چرچ کے افتتاح سے پوری دنیا کے لیے امید کی کرن روشن ہوئی ہے۔ وہ امید یہ کہ کرونا کی وبا جلد پوری دنیا میں مکمل طور پرجلد ختم ہوگی۔

خیال رہے کہ غرب اردن میں کرونا کے 423 مریض سامنے آئے ہیں جب کہ دو اموات ہوئی ہیں۔

پیر کے روز فلسطین کے وزیر اعظم محمد اشتیہ نے کہا تھا کہ انفیکشن میں کمی کے بعد پابندیوں کو کم کرنے کے لیے منگل کو مساجد، گرجا گھروں اور کام کے مقامات کو کھولا جا رہا ہے۔