.

سعودی عرب: نمازیوں کو مساجد میں گھروں سے جائے نمازیں لانے کی ترغیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے جمعرات کے روز ایک بیان میں شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے وزارت صحت کے وضع کردہ طریقہ کار کی پیروی کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے بات کرتے ہوئے سعودی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ حکومت نے مساجد کو عبادت کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مساجد کھولے جانے کے ساتھ ساتھ نمازیوں کو بھی بہت زیادہ احتیاط سے کام لینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ گھروں سے وضو کرکےمساجد میں آئیں اور جائے نماز گھروں سے ساتھ لائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو چہرے پر ماسک چڑھانے، مساجد کا رخ کرنے سے قبل ہاتھوں کو اچھی طرح دھونے کے ساتھ ساتھ دیگر حفاظتی اقدامات کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کےوزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے کہا ہے کہ مکہ معظمہ کی مساجد کے سوا ملک کی تمام مساجد میں نماز جمعہ اور با جماعت نمازوں کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔

اس حوالے سے حکومت کی طرف سے مساجد میں نماز اور عبادت کے لیے نیا میکا نزم تیار کیا ہے۔ مساجد کو اذان سے پندرہ منٹ قبل کھولا جائے گا اور فرض نماز کی ادائی کے 10 منٹ کے بعد مساجد کو بند کردیا جائے گا۔ اذان اور اقامت کےدرمیان 10 منٹ کا وققہ ہوگا۔ نمازوں کی ادائی کے دوران مساجد کے تمام دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھی جائیں گی۔ عارضی طور پر مساجد سے قرآن پاک کے نسخے اور کتب اٹھا لی گئی ہیں۔

نئے میکا نزم کے تحت دو نمازیوں کے درمیان دو نمازیوں کی جگہ خالی چھوڑی جائے گی جب کہ دو صفوں کے درمیان ایک صف خالی رکھی جائے گی۔ مساجد کے تمام واٹر کولر بند کردیے جائیں گے۔ مساجد میں کسی قسم کے کھانے پینے کی اشیا تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نمازوں کے ادائی کے دوران مساجد کی وضو گاہ کو بند رکھا جائے گا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وضو گھروں سے کرکے مساجد میں آئیں۔

سعودی وزیر برائے مذہبی امور آل الشیخ کی ہدایت کے مطابق جمعہ کی نماز کے لیے مساجد میں احتیاطی تدابیر کے تحت نماز جمعہ سے صرف 20 منٹ قبل اذان کی جائے گی۔ مساجد کو نماز جمعہ سے 20 منٹ قبل کھولا اور نمازا کے 20 منٹ بعد بند کردیا جائے گا۔ خطبہ جمعہ صرف 15 دینے کی اجازت ہوگی۔

مساجد میں ہرطرح کے دینی اور تعلیمی درس وتدریس اور تحفیظ القرآن کا سلسلہ تا اطلاع ثانی بند رہے گا۔