.

سعودی عرب: عرب مانیٹری فائونڈیشن ڈیڑھ ارب ریال رقم سرمایہ فنڈ کو منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر برائے معیشت و منصوبہ بندی محمد بن عبداللہ الجدعان نے کہا ہے کہ پبلک انویسٹ منٹ فنڈ کی صلاحیت میں اضافے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اہم فیصلہ عرب مانیٹری فائونڈیشن میں موجود غیرملکی ذخائر میں ایک کھرب 50 ارب ریال کی رقم عوامی سرمایہ کاری فنڈ کو منتقل کی گئی ہے۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 40 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ الجدعان کا کہنا ہے کہ مذکورہ رقم مارچ اپریل کے مہینوں میں سرمایہ فنڈ کو منتقل کی گئی۔ عرب مانیٹری فائونڈیشن کی طرف سے جاری کردہ ڈیٹا سے بھی اس کے ملتے جلتے اعدادو شمار جاری کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اس سال کے آغاز سے ہی غیر ملکی زرمبادلہ کا بہاؤ اپنی تاریخی حد تک پہنچ گیا تھا۔ تاہم رقوم کی سرمایہ فنڈ کو منتقلی کے اقدام سے عرب مانیٹرنگ فائونڈیشن کے محفوظ غیر ملکی ذخائر میں کمی بھی واقع ہوئی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے دوسرے ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

الجدعان نے مزید کہا کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی سرمایہ کاری مانیٹری ایجنسی کے بیانات میں ظاہر نہیں ہوتی۔ مانیٹری ایجنسی کے ماہانہ بیانات میں شائع ہونے والی کمی کی وضاحت کی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ طریقہ کار جامع مطالعہ اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی وافر مقدار سے متعلق تحفظات کو مدنظر رکھنے کے بعد انجام دیا گیا تھا کیونکہ ریاستی اثاثوں پر زیادہ سے زیادہ منافع اقتصادی کارکردگی اور عوامی مالیات پر مثبت طور پر ظاہر ہوگا اور کرونا وبائی امراض کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے فنڈ کے ذریعہ حاصل کردہ سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کی واپسی ممکن بنائے جائے گی۔ اس طرح مانیٹری ایجنسی اور سرمایہ کاری فنڈ پر کم سے کم بوجھ پڑے گا۔

الجدعان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب جمعرات سے سعودی عرب میں کرفیو میں نرمی، اور اقتصادی سرگرمیوں کی جزوی بحالی کا فیصلہ کیا گی اہے۔

الجادان نے وضاحت کی کہ یہ فیصلے عالمی وبا کے بحران کا سامنا کرنے اور ریاست میں معاشی سرگرمیوں کو اپنی معمول کی سطح پر بتدریج واپسی کی طرف ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوگا۔ یہ فیصلے وزارت صحت اور متعلقہ حکام کے مابین مستقل رابطے کے بعد کیے گئے ہیں۔ مملکت میں معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے طریق کار میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ معیشت، صحت اور معاشرتی حالات کے استحکام کو برقرار رکھا جاسکے۔