.

کرفیو کی بندش نے سعودی سیکورٹی گارڈ کو مصوّر بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے نافذ کرفیو اور تجارتی کمپلیکسز کی بندش کے دوران ایک سعودی سیکورٹی گارڈ نے فارغ وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیکڑوں پینٹنگز بنا ڈالیں۔ تفصیلات کے مطابق جدہ کا مقامی شہری عبداللہ بن عبدالمحسن تین برس سے ایک تجارتی کمپلیکس میں بطور سیکورٹی گارڈ ملازمت کر رہا ہے۔

حالیہ عرصے میں اس کی بنائی ہوئی خوب صورت اور جدت کی گہرائیوں میں ڈوبی پینٹگز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئیں۔ اس دوران سعودی وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبدالله بن فرحان آل سعود نے ٹویٹر پر جواب دیتے ہوئے لکھا کہ "عبداللہ تم نے جدت سے بھرپور کام کیا ہے ، اپنا کام جاری رکھو .. وزارت ثقافت میں میرے ساتھی تم سے رابط کریں گیں"۔

عبداللہ بن عبد المحسن نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "میں زیادہ تر اپنے گھر میں مصوری کرتا ہوں ، میں اپنے اس شوق کے رنگوں کو کینوس پر بکھیرتا ہوں۔ کرونا وائرس کے سبب کرفیو کے نفاذ اور تجارتی مراکز کی بندش کے دوران صارفین اور خریداری کرنے والے موجود نہیں تھے۔ میں نے اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پینٹنگز بنا دیں۔ میں تجارتی مرکز کے مرکزی دروازے پر بیٹھا ہوا ساتھ میں مصوری کر رہا ہوتا تھا۔ ایک روز کسی شخص نے میری مشغولیت کے دوران تصویر بنا کر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا اور اس نے وسیع پیمانے پر مقبولیت حاصل کر لی"۔

عبداللہ کا کہنا ہے کہ "سیکورٹی گارڈ کے پاس بالخصوص شام کے اوقات میں موقع ہوتا ہے کہ وہ اس دوران بہت سے کام سیکھ لے۔ مثلا قرآن حفظ کرنا ، پینٹنگز بنانا یا شخصیت بہتر بنانے کے کورسز میں شامل ہونا وغیرہ"۔

سعودی گارڈ نے بتایا کہ "میں نے بچپن سے ہی فن اور مصوری سے محبت کی ہے .. اب 28 برس سے زیادہ ہو چکے ہیں کہ میں فنون لطیفہ کے حوالے سے اپنے شوق کو تسکین پہنچا رہا ہوں .. میں بہت سے مقابلوں اور نمائشوں میں حصہ لیتا ہوں"۔

عبداللہ بن عبدالمحسن کے مطابق اس کی پینٹنگز کے اہم موضوعات قدرتی مناظر ہیں۔