.

سرکاری نیوز ایجنسی نے ایرانی کمانڈر کی پاسداران انقلاب پر تنقید نشر کرنے کے بعد حذف کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجسنی "اِرنا" نے ایرانی فوج کے ایک کمانڈر کی جانب سے پاسداران انقلاب پر کی جانے والی تنقید کو نشر کرنے کے چند گھنٹے بعد حذف کر دیا۔ ایجنسی نے حذف کیے جانے کی وجہ بیان نہیں کی۔

اتوار کے روز اِرنا نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی فوج کے نائب رابطہ کار اور ایرانی بحریہ کے سابق کمانڈر حبیب اللہ سیاری نے ضمنی طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کی سیاسی اور اقتصادی سرگرمیوں پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے ایرانی میڈیا کی جانب سے فوج کو نظر انداز کرنے کا بھی حوالہ دیا۔

ایرانی انٹرنیشنل (عربی) ویب سائٹ کے مطابق "اِرنا" نے گذشتہ ہفتے اس انٹرویو کا ایک مختصر وڈیو کلپ جاری کیا تھا۔ تاہم انٹرویو کی مکمل وڈیو گذشتہ روز اتوار کو پوسٹ کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد بنا کسی وضاحت کے حذف کر دی گئی۔

البتہ بعض ایرانی ویب سائٹوں نے حذف شدہ وڈیو میں سے تقریبا 14 منٹ کا مواد دوبارہ نشر کیا۔

انٹرویو میں سیاری نے ایرانی پاسداران انقلاب کی سیاسی اور اقتصادی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "اقتصادی امور میں مداخلت مسلح افواج کے مفاد میں نہیں ہے"۔

سیاری کا کہنا تھا کہ "اس بات کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم سیاست کو نہیں سمجھتے ؟ ہم سیاست کو اچھی طرح سمجھتے ہیں .. ہم بیدار ہیں اور اچھی طرح سے صورت حال کا تجزیہ کر رہے ہیں مگر ہم سیاست میں دخل اندازی نہیں کرتے کیوں کہ مسلح افواج کو سیاسی بنانا ان کے لیے نقصان دہ ہے"۔

اسی طرح عسکری کمانڈر نے ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایرانی فوج کو نظر انداز کیے جانے پر بھی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ "ایران کے علاقائی پانی اور فوج کے ناکام رہنے کے حوالے سے غلط بیانات نشر ہونے کے بعد عدالتی مقدمہ دائر کیا گیا .. ایرانی نشریاتی ادارے (ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کارپوریشن) کے سربراہ کو ایک تحریری خط بھیجا گیا مگر کسی نے اس کا جواب نہ دیا"۔

سیاری کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ "ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کارپوریشن میں پسِ پردہ کچھ ہے"۔

اِرنا (نیوز ایجنسی) کی جانب سے سیاری کا انٹرویو حذف کیے جانے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

حبیب اللہ سیاری 2008 سے ایرانی بحریہ کے کمانڈر کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ نومبر 2017 میں ایرانی مسلح افواج کے قائدِ عام علی خامنہ ای کے حکم پر سیاری کو ان کے منصب سے برطرف کر کے فوج کا نائب رابطہ کار مقرر کر دیا گیا۔

ایرانی نظام حکومت کے حامیوں کے مطابق ایرانی فوج کی ذمے داری "وطن کا دفاع" ہے .. جب کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا فرض "حکمراں نظام کا دفاع" ہے۔